غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 76 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 76

76 کہ میری رائے بھی درست ہے لیکن ہوتی غلط ہے اور اگر ایسی صورت میں اگر کوئی دوسرا شخص سامنے بیٹھا ہوگا۔اگر تو دوسرا شخص جس کے بارے میں رائے قائم کی گئی ہے وہ سامنے بیٹھا ہے اور اس سے پوچھا جائے تو لازماً وہ اپنی بریت ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا اور کہے گا کہ تمہیں میرے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔میرے اندر یہ نقص نہیں پایا جاتا۔تو آپ فرماتے ہیں کہ خواہ کسی کے نزدیک کوئی بات سچی ہو جب وہ کسی شخص کی عدم موجودگی میں بیان کرتا ہے اور وہ بات ایسی ہے کہ جس سے اس کے بھائی کی عزت کی تنسیخ ہوتی ہے یا اس کے علم کی تنسیخ ہوتی ہے یا اس کے رتبہ کی تنسیخ ہوتی ہے تو قرآن کریم اور احادیث کی رُو سے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔کیونکہ اس طرح اس نے اپنے بھائی کو اپنی برآت پیش کرنے کے حق سے محروم کر دیا۔سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ اگر صحیح درد ہے معاشرے کا معاشرے کی صحیح اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔صرف مزے لینے کے لئے اور لوگوں کی ٹانگیں کھینچنے کے لئے باتیں نہیں کہ ان کو لوگوں کی نظروں سے گراؤں۔افسروں کی نظروں سے گراؤں اور اپنی پوزیشن بناؤں تو ایسے لوگ بھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں کہ ” حضرت ابن عباس نے کہا کہ اگر تو اپنے کسی ساتھی کے عیوب بیان کرنا چاہے تو پہلے ایک نظر اپنے عیوب پر ڈال لے۔“ (احیاء علوم الدین جلد 3 صفحہ 177) کسی کے عیب بیان کرنے سے پہلے اپنے عیبوں پر نظر ڈالو: ایک شخص تھا، اس نے کسی دوسرے کو گنہ گار دیکھ کر خوب اس کی نکتہ چینی کی اور کہا کہ دوزخ میں جائے گا۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیوں؟ تجھ کو میرے اختیارات کس نے دیئے ہیں۔“ جنت اور دوزخ میں بھیجنا تو میرا کام