غلبہء حق

by Other Authors

Page 248 of 304

غلبہء حق — Page 248

۲۴۸ درج نہیں ہے۔مصلح موعود کو خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود کے ہاں پیش گوئی شہداء کے بعد بموجب وعدہ الٹی نو سال کے اندر پیدا ہونا چاہیے تھا۔سو وہ پیدا ہو گیا۔یہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تھے جو حضرت مسیح موعود کے دوسرے خلیفہ اور جانشین قرار پائے۔فالحمد للہ على دانك۔بے شک قدرت ثانیہ مصلح موعود بھی ہے جس کا صاحب الہام ہونا بھی ضروری تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُسے نہ مامور من اللہ قرار دیا ہے اور نہ مامور من اللہ سمجھا ہے۔اگر آپ اُسے مامور من اللہ سمجھتے تو پھر اسے اپنی موجودہ اولاد میں سے ہونے والا مرد خدا میسج صفت قرار نہ دیتے دیکھو تریاق القلوب حث بلکہ یہ فرماتے کہ وہ چوتھی صدی میں آئیگا۔کیونکہ تین صدیاں تو میرا زمانه ماموریت ہے۔پس الهام بر سر سه صد شمار این کار را سے صرف یہ مراد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ماموریت کا زمانہ تین سو سال ہے نہ کہ مصلح موعود کے ظہور کا وقت جس کے لیے بموجب وعدہ الہی نو سال کے اندر پیدا ہونا ضروری تھا۔خلافت اولی کے خلاف بعض لوگوں کی ریشہ دوانیاں قدرت ثانیہ سے مراد حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے نزدیک بھی خلافتِ احمدیہ ہی ہے۔چنانچہ آپ کی خلافت کے عہد میں آپ کی خلافت کے خلاف " اظہار الحق نامی دو ٹریکٹ ایک گمنام شخص کی طرف سے لاہور سے شائع ہوئے اور مہندوستان کے مختلف شہروں میں تقسیم کیے گئے۔اس کے بعد اخبار پیام صلح لا ہور میں بالومنظورائی اور سید انعام اللہ مینجر پہ جام صلح نے ان ٹریکٹوں کے مضامین سے اپنا اتفاق ظاہر کیا۔اور انصار اللہ کے نام ایک کھلی چٹھی شائع کر کے ان کو مورد الزام