غلبہء حق — Page 247
۲۴۷ اس درخواست کے پنجے معتمدین صد را نمین احمدیہ اور کئی دوسرے احباب کے نام درج ہیں جن میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور کے نام بھی شامل ہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب کے اعلان اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں پیش کی گئی اس درخواست سے ظاہر ہے کہ اس وقت صدر النجمین احمدیہ کے تمام حاضر ممبران نے پرانے احمدیوں کے لیے بھی بعیت اسی طرح ضروری قرار دی میں طرح نئے احمدیوں کے لیے ضروری سمجھی۔لہذا فاروقی صاحب کا یہ کہنا کہ جنھوں نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کی ہوئی تھی ان کے لیے دوبارہ بیعت کرنا ضروری نہ تھا سراسر ایک باطل بات ہے۔لہذا جب خلافت اولیٰ جماعت احمدیہ میں قائم ہو چکی اور ساری جماعت نے حضرت خلیفہ اسیح الاول ض کی سبعیت کر لی ، تو خلافت ثانیہ کے موقع پر بھی اسی طرح کی خلافت قائم ہونی چاہیے تھی۔اور جن لوگوں نے جماعت احمدیہ میں سے خلیفہ المسیح الثانی روز کی سبیعیت نہ کی اور لاہور جا کر ایک نئی انجمن کی بنیاد رکھی اُن کو انکار خلافت اور نئی انجمن بنانے کا کوئی حق نہ تھا اور یہ نئی انجمن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جانشین قرار نہیں دی جاسکتی تھی۔کیونکہ حضور کی خود قائم کردہ انجمن سلسلہ کے مرکز قادیان میں موجود تھی۔فاروقی صاحب کی ایک اور غلطی | فاروقی صاحب نے الہام برسر سه صد شمار این کار را کو از خود مصلح موعود کے متعلق قرار دے دیا ہے۔حالانکہ تذکر طبع دوم ص اور ص۸۳ پر اس الہام کے مصلح موعود سے متعلق ہونے کے بارے میں کوئی نوٹ