غلبہء حق — Page 249
۲۴۹ قرار دیا۔تو اس پر انصار اللہ کی طرف سے جواب میں خلافت احمدیہ کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا گیا۔یہ رسالہ ۲۳ نومبر سالانہ کو شائع ہوا۔اس کے ضمیمہ میں درج ہے :۔وو اگر هم سیدنا و مولانا حضرت خلیفہ امسیح علیهما السلام کی اس مہربانی کا شکریہ بہا ادا کریں ، تو یہ بڑی نا قابل تلافی فرو گذاشت ہو گی ، جو کہ حضور نے رسالہ خلافت احمدیہ کے طول و طویل مسودہ کو اس ضعف پیری اور ازدحام مشاغل کے باوجود ایک ہی مجلس میں سارے کو شرف ملاحظہ عطا فرما کر اور اشاعت کی اجازت اور وعدہ دعا فرما کر اظہار فرمائی ضمیمہ خلافت احمدیہ صت) اخبار پیغام صلح کا اظہار الحق کی تائید میں مضمون شائع کر دنیا ایک ایسان تقول فعل تھا کہ یہ خلیفہ وقت کو پیغام جنگ دینے کے مترادف تھا۔اظہارالحق کے ٹریکٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ " الوصیت“ میں قدرت ثانیہ کا جو وعدہ ہے اس سے خلیفہ مراد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ خلیفہ تو آدمی ہو گا اور حضرت صاحب نے تو لکھا ہے کہ قدرت ثانیہ تو ہمیشہ تمھارے ساتھ رہے گی " اس سوال کے جواب میں رسالہ خلافتِ احمدیہ میں ایک جواب یہ بھی دیا گیا تھا که قدرت ثانیہ کی پیشگوئی سے بھی خلفا کا سلسلہ مراد ہے اور با وجود تمھارے دھوکہ دینے کے تم اس کے اور کوئی معنے انہیں کر سکے۔کیونکہ خود حضرت مسیح موعود یہ السلام نے فرما دیا ہے کہ قدرت ثانیہ کے معنی خلیفہ کے ہیں۔اس کے ثبوت میں الوصیت کی وہ عبارت پیش کی گئی ہے جس میں دو قدرتوں کے ظاہر ہونے کا ذکر ہے اور جس میں دوسری قدرت کا مظہر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرار دیا گیا ہے۔