غلبہء حق — Page 191
191 پہلے ان الفاظ میں الہام ہو چکا تھا۔ان الذينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُ وا إِلَى يَوْمِ القيامة۔کہ بے شک جو لوگ تیرا اتباع کریں گے وہ قیامت تک تیرے منکرین پر غالب رہیں گے۔الفضل ۲ نومبر ۳۶) ۱۹۳۶ء میں حضور نے مولد بعذاب قسم کے ساتھ یہ الہام پیش کیا تھا۔فرماتے ہیں : ” اگر میں اِس الہام کے سنانے میں جھوٹا ہوں تو خدا کی مجھے پر لعنت " پس حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اس الہام کے بعد خلافت پر سرفراز ہوئے اور پچاس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک مسند خلافت پر سر فرانہ رہے اور چونکہ مصلح موعود کی پیش گوئی بھی دراصل آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا ایک عظیم الشان سیجی نفس خلیفہ ہی قرار دیتی تھی نہ کہ نبی اور رسول اور مامور من اللہ۔اس لیے آپ نے اپنے اس الہام پر جو خلافت میں آپ کی کامیابی کی بشارت اور آپ کے منکرین کے مغلوب رہنے کی خبر دنیا تھا نئیں کسالی کی بجائے 4 سال کے قریب مدت پائی ہے اور اس کے خدا کا الہام ہونے کے متعلق مؤکد بعذاب حلف اُٹھانے کے بعد آپ ۲۸ سال زندہ رہے ہیں۔پس مصلح موعود کے متعلق جو آپ پر یہ الہام ہوا "أَنَا المسيح الموعود مثيله وخليفته» به درحقیقت آپ کے الہام ان الذین اتبعوك وَخَلِيفَتُه فوق الذین کفروا کی تشریح ہی ہے جو ایک وقت کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے کی گئی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ الہام جس کی روشنی میں آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تھا اور جس میں حضرت