غلبہء حق — Page 192
۱۹۲ میسج کے وفات پا جانے اور آپ کے حضرت شیخ کے رنگ میں ہو کر آنے کا ذکر تھا دراصل اس پہلے الہام مندرجہ براہین احمدیہ یا عیسى إني متوفيك د رافعك إلى اور الهام أنتَ اَشَدُّ مُنَا سَبَةٌ بِعِلَى ابْنِ مَرْيَمَ درا وَاشْبَه النَّاسِ بِهِ خُلقاً وخَلقًا وزمَانَا ازالہ اوہام ص۱۲۲ بحوالہ براہین احمدیہ کی تشریح ہی تھا۔ان دونوں الہاموں کا ترجمہ یہ ہے کہ (ا) اسے بیسی میں تجھے طبعی وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔(۲) تیری عیسی ابن مریم سے شدید ترین مشابہت ہے اور تو خلق خلقت اور زمانہ کے لحاظ سے اس سے شدید ترین مشابہت رکھتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیماری | فاروقی صاحب نے اپنے دل کی پر فاروقی صاحب کا سنگدلانہ رویہ بھڑاس نکالنے کے لیے حضرت خلیفة المسیح الثانی رض کو آپ کی آخری عمر میں مجنون اور مفلوج قرار دیکر معاذاللہ ڈاکٹر ڈوئی سے جو مدعی نبوت تھا تشبیہ دی ہے۔جس کے متعلق حضرت مسیح موعود نے تمہ حقیقۃ الوحی میں لکھا تھا۔"آخر کار اس رڈوئی) پر فالج گرا اور ایک تختہ کی طرح چند آدمی اُسے اُٹھا کر لے جاتے رہے۔پھر بہت سے عموں کے باعث پاگل ہو گیا اور جو اس نبجانہ رہے " تتمہ حقیقة الوحی صدے حضرت اقدس اس عبارت سے پہلے اس کی ناکامیوں اور نامرادیوں کا ذکر تحریر فرماتے ہیں۔پس فاروقی صاحب نے نامکمل حوالہ پیش کیا ہے۔ڈوٹی حضرت اقدس