غلبہء حق — Page 173
افسوس ہے کہ فاروقی صاحب نے حضرت اقدس کی عبارت میں صریح تعریف کر کے آپ کی طرف یہ منسوب کر دیا ہے کہ آپ نے مبارک احمد کو مصلح موعود لکھا ہے۔یہ تحریف اس سے پہلے ان کے والد بزرگوار ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے جو مولوی محمد علی صاحب کے خسر تھے اپنی کتاب مجدد اعظم میں پیشگوئی مصلح موعود پر بحث کرتے ہوئے کی تھی۔بہت ممکن ہے کہ فاروقی صاحب نے یہ محترف اقتباس اپنے والد صاحب پر اعتماد کرتے ہوئے اُن کی کتاب مجدد اعظم سے ہی نقل کیا ہو۔ورنہ اگر فی الواقعہ الہامی تعیین سے مبارک احمد مصلح موعود قرار پا چکا ہوتا تو پھر تو یہ ماننا پڑے گا کہ معاذ اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی نہ یہ کہ اس بارہ میں آپ کا کوئی اجتہاد غلط نکلا۔- فاروقی صاحب کے کلام میں صریح تضاد موجود ہے کہ فتح حق ملت پر وہ حضرت اقدس کے اجتہاد کا غلط نکلنا بیان کرتے ہیں اور آگے چل کر اس کے صریح خلاف الہامی تعیین کے مطابق چو تھے لڑکے مبارک احمد کا مصلح موعود ہونا بیان کرتے ہیں حالانکہ وہ جلد وفات پا کر ثابت کر گیا کہ وہ مصلح موعود نہ تھا۔پس فاروقی صاحب کا اسے الہامی تعیین سے مصلح موعود قرار دیا باطل ہوا جب ایک انسان حق کو چھوڑتا ہے تو اسی قسم کی متضاد باتیں ہی کرنے لگ جاتا ہے۔واضح ہو کہ مبارک احمد کو چوتھا لڑکا قرار دینے کے متعلق ۲۰ فروری شام سے بھی پہلے ۱۸۸۳ میں ہی ایک الہام ہو چکا تھا ، چنانچہ حضور نزول آسیح امہ 1940 میں لکھتے ہیں :۔ہ میں مجھ کو الہام ہوا کہ تین کو چار کرنے والا مبارک