غلبہء حق

by Other Authors

Page 139 of 304

غلبہء حق — Page 139

۱۳۹ اور رسالت کو چاہتا ہے اور اس کے پانے والے کے لیے نبی ہونا ضروری ہوتا ہے اور اسی مصفیٰ غیب کے حسب منطوق آیت پانے کی وجہ سے تمام انبیاء بنی کہ ملاتے رہے ہیں۔البتہ اب اس قسم کا مصفی اغنیب جس کے لیے بنی ہونا ضروری ہے اور جو نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے براہ راست بغیر پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی امتی کو حاصل نہیں ہو سکتا پس اس مصفی غیب کی موصبت کو پانے کے لیے جس کے لیے نبی ہونا ضروری ہے اور جو نبوت او رسالت کو چاہتا ہے صرف بروز ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس امتی کو خدا تعالیٰ آیت لا يظهر على غيبب احداً إلا من ارتضى من رسول کے مطابق مکالمہ مخاطبہ الیہ کالہ سے مشرف کرے یعنی اسے عظیم الشان امور غیبیہ پر بکثرت اطلاع دے اور اس کا نام نبی رکھے تو اس کی وحی ایاک معنی میں وحی نبوت“ ہی ہو گی۔ہاں چونکہ امتی کو جب نبی کا نام ہے تو ایسا شخص ظلی بنی با امتی نبی ہوگا نہ کہ مستقل نبی اور اس کی وحی جو مصفی غیب پرشتمل ہو اور جس میں اُسے بنی قرار دیا گیا ہو دحی نبوت طلبہ ہوگی نہ کہ وحی نبوت مستقلہ۔وحی نبوت مستقلہ منقطع ہے اور وحی نبوت طلبه منقطع نہیں۔مگر وحی نبوت طلبہ اور وحی نبوت مستقلد میں جو تشریعی حی پر مشتمل نہ ہو نفس نبوت میں کوئی فرق نہیں۔صرف دونوں کا ذریعہ حصول مختلف ہے۔یعنی وحی نبوت مستقلہ سابق مستقل انبیا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر براہ راست نا فدل ہوتی رہی ہے اور وحی نبوت ظیہ ظلی نبی پر صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپؐ کے افاضه روحانیہ کے واسطہ سے نازل ہوتی ہے۔ہاں اگر مکالمه مخاطبہ الہیہ اپنی کیفیت اور کیت میں کسی امتی کو کمال درجہ حاصل نہ ہو تو یہ مکالمہ مخاطبہ