غلبہء حق — Page 111
18 سائل کا ان دونوں قسم کی عبارتوں میں تناقض قرار دنیا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ وہ پہلی عبارت سے یہ سمجھتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے آپ کو تریاق القلوب میں غیر نبی قرار دیتے ہیں اور پھیلی عبارتوں کو وہ اس سے تناقض رکھنے والی اس لیے قرار دیا ہے کہ اس کے نزدیک (دوسری) یہ عبارت کہ خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے نبی ہونے کو چاہتی ہے کیونکہ ایک نبی ہی یہ بات کہ سکتا ہے۔کہ وہ ایک دوسرے نبی سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔اسی طرح ایک نبی ہی دوسرے نبی کے مقابلہ میں یہ کہ سکتا ہے کہ وہ اپنے کاموں اور آسمانی نشانوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے بہت بڑھ کر ہے۔ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عقیدہ نبوت میں کوئی تبدیلی نہ کی ہوتی اور ریویو کی تحریر کے وقت بھی اپنے تیئں تریاق القلوب کی تحریر کی طرح نبی معنی متحدت بھی سمجھتے ہوتے جو دراصل نبی نہیں ہوتا تو آپ سائل کو یہ جواب دیگر خاموش کر سکتے تھے کہ میری دونوں تحریر دل میں کوئی تناقض نہیں بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام سے اپنی تمام نشان میں بہت بڑھ کر ہونے کے فقرہ سے بھی میری مراد پہلے فقرہ کی طرح یہی ہے کہ مجھے حضرت عیسی علیہ السلام پرایسی جزوی فضیلت ہی حاصل ہے جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے۔لہذا سائل کو میری عبارتوں کے سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔میری ان عبارتوں میں کوئی تناقض موجود نہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسائل کو یہ جواب نہیں دیتے بلکہ اپنی ان عبارتوں میں خود بھی تناقض تسلیم کر لیتے ہیں اور سائل کو یہ جواب دیتے ہیں کہ میرا حضرت مسیح علیہ السلام پر جزوی فضیلت کا عقیدہ اس وقت تک تھا کہ جب تک میں حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی سمجھتا تھا اور نبوت میں اُن سے اپنی