غلبہء حق — Page 112
10' کوئی نسبت نہ سمجھتا تھا یعنی انھیں نبی سمجھتا تھا اور اپنے میں جزوی نبی ، لیکن بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہیں رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے بنی اور ایک پہلو سے امتی (دیکھو حقیقۃ الوحی ص ) گویا پہلے آپ اپنے الہامات میں نبی کا لفظ چونکہ محدث کے مترادن مرا لینے کی وجہ سے اپنے آپ کو غیر نبی سمجھتے تھے اس لیے اگر حضرت عیسی علیہ السلام پر آپ کی فضیلت کا کوئی امرظا ہر ہوتا تھا تو آپ اُسے ایسی جز دی تضیلات قرار دیتے تھے جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے لیکن بعد میں خدا کی طرف سے متواتر وحی سے یہ انکشاف ہو جانے پر کہ آپ نے صریح طور پر نبی کا خطاب پایا ہے آپ اس جزوی فضیلت کے عقیدہ پر قائم نہ رہے جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہوسکتی ہے اور اپنے تئیں صریح طور پر نبی کا خطاب یافتہ سمجھے لینے پر آپ نے یہ اعلان فرما دیا کہ آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہیں۔یعنی نفس نبوت میں اُن کے مسادی ہیں اور اپنے کارناموں اور نشانات دکھانے نہیں اُن سے بہت بڑھ کر ہیں۔ورنہ ایک شخص جو نبی نہ ہو وہ ہرگز ی نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنی تمام شان میں ایک نبی سے بہت بڑھ کر ہے۔غیر نبی کا یہ بیان تو سراسر جھوٹ اور مضحکہ خیز بن جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام نشان میں یعنی مجموعی شان میں ایک نبی سے بہت بڑھ کر یعنی افضل ہے۔ہم اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جواب کی عبادت آپ کے لفظوں میں نقل کر دینا چاہتے ہیں تا ہماری کتاب پڑھنے والوں کو ہمارے اخذ کردہ نتیجہ کی صحت پر پوری بصیرت حاصل ہو جائے اور انھیں ہمارے اس استدلال کے متعلق کوئی شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔حضور سائل کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:۔