غلبہء حق — Page 109
1۔9 پس یہ فقرہ محدث کے لیے کہا ہی نہیں جا سکتا۔بلکہ یہ فقرہ صرف حقیقی معنوں میں نبی کے لیے ہی کہا جا سکتا ہے۔اگر آپ نبی بمعنی محدث کی تعریف کر رہے ہوتے تو یہ تحریر فرماتے کہ وہ شریعت نہیں لاتا۔یہ نہ فرماتے اُس کے لیے شریعیت کا لانا ضروری نہیں کیونکہ جو حقیقی معنوں میں نبی ہو وہی شریعیت جدیدہ لا سکتا ہے۔۔۔۔۔اسی طرح اس سے اگلا فقرہ بھی نہ یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو" محض محدث کے لیے نہیں کہا جا سکتا۔کیونکہ محض محدث تو ضروری طور پر ایک بنی کے تابع ہوتا ہے۔وہ نبی کا غیر تابع ہو ہی نہیں سکتا۔مگر یہ فقرہ تتا رہا ہے کہ جس نبی کے حقیقی معنی آپ بیان فرما رہے ہیں وہ ایک نبی کے تابع بھی ہو سکتا ہے اور غیر تابع بھی۔لہذا یہ حقیقی نبی کی جامع اور مانع تعریف ہوئی، نہ کہ محدث کی جو بالضرور تابع ہی ہوتا ہے حقیقی نبی کی ہی یہ نشان بھی ہو سکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے نبی کا تابع نہ ہو۔پس اس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی کے تابع کا بھی حقیقی معنوں میں بنی ہونا جائز قرار دیتے ہیں اور ان حقیقی معنون ایک امتی کے نبی میں معنوں کی رُو سے بار جانے کو بھی قابل اعتراض نہیں جانتے بلکہ انہی فرماتے ہیں :- " ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے میں کوئی محذور لازم نہیں آتا " اپنی حقیقی معنوں میں حضرت اقدس نے اس جگہ میسج موعود کو حقیقی معنوں میں نبی قرار دیا ہے۔ہاں آپ جدید شریعت لانے والے حقیقی نبی نہیں نہ مستقل نبی ہیں بلکہ اُمتی نبی ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تعریف نبوت ہیں تبدیلی نہ کرلی ہوتی تو پھر تو پہلی معروف تعریف نبوت کے مطابق جو مسائل کو بھی مسلم تھی اُسے چند لفظوں میں یہ جواب دیدیتے کہ صیحیح مسلم میں مسیح موعود کو