غلبہء حق — Page 108
نبی کے حقیقی معنی صرف یہ تیار ہے ہیں کہ وہ مکالمہ مخاطب اللہ شمل برامور غیبیہ کی نعمت سے مشرف ہوتا ہے۔شریعت کا لانا اسکے لیے ضروری نہیں۔نہ اس کے لیے دوسرے نبی کا امتی نہ ہونا ضروری ہے بلکہ منی کا حقیقی معنوں میں بنی ہو جانا کوئی قابل اعتراض امر نہیں۔چنانچہ صاف فرما دیا ہے کہ :- "پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے میں کوئی محذور لازم نہیں آتا۔بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اسی نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو۔" حضور نے سائل کو سمجھایا ہے کہ تم جو اُمتی کا نبی ہونا محال سمجھتے ہو، یہ نبوت کے حقیقی معنوں پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ اُمتی نبی نہیں ہو سکتا۔حالانکہ نبی کے لیے نہ شریعیت کا لانا ضروری ہے اور نہ ضروری ہے کہ کسی دوستر نبی کا امتی نہ ہو۔بلکہ اس کے لیے صرف مکالمه مخاطبه البیه مشتمل بر امور غیبیہ کا پانا ضروری ہے۔لہذا میسج موعود صحیح بخاری ومسلم کی حدیثوں کے مطابق اُمتی ہو کہ بھی نبی ہو سکتا ہے۔کیونکہ نبوت کے حقیقی معنوں پر اگر غور کیا جائے تو امتی کا نبی ہو جانا قابل اعتراض امر نہیں۔واضح ہو حضرت اقدس کا یہ فقرہ کہ اس کے لیے شریعیت کا لانا ضروری نہیں اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اس جگہ نبی کے حقیقی معنوں میں نبی کی تعریف بیان کی گئی ہے۔نہ کہ محدث کی تعریف جو ناقص اور جزوی نبی ہوتا ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کے الفاظ بتاتے ہیں کہ نئی نئی شریعت یا احکام جدیدہ لانے والا بھی ہو سکتا ہے اور بغیر شریعت و احکام جدیدہ کے بھی نبی ہو سکتا ہے مگر محض محدث تو ہوتا ہی وہ شخص ہے جو شریعت جدیدہ یا احکام جدید نہیں لاتا۔