فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 212
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 212 (۲۷۳) بنکوں کا سود بونس وغیرہ کا روپیہ جو گورنمنٹ دیتی ہے ایک صاحب نے سوال کیا کہ ریلوے میں جو لوگ ملازم ہوتے ہیں ان کی تنخواہ میں سے ار (ایک آنہ فی روپیہ کاٹ کر رکھا جاتا ہے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ روپیہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ زائد روپیہ بھی وہ دیتے ہیں۔اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ:۔" شرع میں سود کی یہ تعریف ہے کہ ایک شخص اپنے فائدے کیلئے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلا وے گا۔لیکن جس نے روپیہ لیا ہے اگر وہ وعدہ وعید تو کچھ نہیں کرتا اور اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے تو وہ سود سے باہر ہے۔چنانچہ انبیاء ہمیشہ شرائط کی رعایت رکھتے آئے ہیں۔اگر بادشاہ کچھ روپیہ لیتا ہے اور وہ اپنی طرف سے زیادہ دیتا ہے اور دینے والا اس نیت سے نہیں دیتا کہ سود ہے تو وہ بھی سود میں داخل نہیں ہے۔وہ بادشاہ کی طرف سے احسان ہے۔پیغمبر خدا نے کسی سے ایسا قرضہ نہیں لیا کہ ادائیگی کے وقت اسے کچھ نہ کچھ ضرور زیادہ دید یا ہو۔یہ خیال رہنا چاہئے کہ اپنی خواہش نہ ہو۔خواہش کے برخلاف جو زیادہ ملتا ہے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔" ایک صاحب نے بیان کیا کہ سید احمد خاں صاحب نے لکھا ہے کہ اَضْعَافاً مُضَاعَفَةً کی ممانعت ہے۔فرمایا کہ:۔یہ بات غلط ہے کہ سود در سود کی ممانعت کی گئی ہے اور سود جائز رکھا ہے۔شریعت کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے۔یہ فقرے اسی قسم کے ہوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ۔اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو۔اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جب کہ لینے والا اسی خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے۔ورنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احسانا دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔" البدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 / مارچ 1903 ء صفحہ 75) (۲۷۴) رشوت وغیرہ حرام مال سے جو عمارت وغیرہ ہو ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص تائب ہو تو اس کے پاس جو اؤل جائدا درشوت وغیرہ