فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 211
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 211 روپیہ لگانا جائز ہے کیونکہ ہر ایک مال خدا کا ہے اور اس طرح پر وہ خدا کے ہاتھ میں جائے گا۔مگر بائیں ہمہ اضطرار کی حالت میں ایسا ہوگا اور بغیر اضطرار یہ بھی جائز نہیں۔" البدر نمبر 26 جلد 1 مؤرخہ 29 ستمبر 1905 صفحہ 4 (۲۷۱) اسلامی تائید کیلئے اجازت سود مختص المقام ومختص الزمان ہے ایک دوست نے عرض کی کہ اگر اس طرح سے ایک خاص امر کے واسطے سود کے روپے کمانے کی اجازت دی گئی ہو تو لوگوں میں اس کا رواج وسیع ہو کر عام قباحتیں پیدا ہو جا ئیں گی۔فرمایا کہ:۔" بے جاعذر تراشنے کے واسطے تو بڑے حیلے ہیں۔بعض شرير لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ کے یہ معنی کر دیتے ہیں کہ نماز نہ پڑھو۔ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ اضطراری حالت میں جب خنزیر کھانے کی اجازت نفسانی ضرورتوں کے واسطے جائز ہے تو اسلام کی ہمدردی کے واسطے اگر انسان دین کو ہلاکت سے بچانے کے واسطے سود کے روپیہ کر خرچ کر لے تو کیا قباحت ہے۔یہ اجازت مختص المقام اور مختص الزمان ہے۔یہ نہیں کہ ہمیشہ کے واسطے اس پر عمل کیا جائے۔جب اسلام کی نازک حالت نہ رہے تو پھر اس ضرورت کے واسطے بھی سود لینا ویسا ہی حرام ہے کیونکہ دراصل سود کا عام حکم تو حرمت ہی ہے۔" البدر نمبر 26 جلد 1 مؤرخہ 29 ستمبر 1905 ء صفحہ 4 (۲۷۲) نوٹوں پر کمیشن حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں ایک صاحب کا سوال پیش ہوا کہ نوٹوں کے بدلے روپیہ لینے یا دینے کے وقت یا پونڈ یا روپیہ تو ڑانے کے وقت دستور ہے کہ کچھ پیسے زائد لئے یا دیئے جاتے ہیں۔کیا اس قسم کا کمیشن لینا یا دینا جائز ہے؟ حضرت نے فرمایا:۔" یہ جائز ہے اور سود میں داخل نہیں۔ایک شخص وقت ضرورت ہم کو نوٹ بہم پہنچا دیتا ہے یا نوٹ لے کر روپیہ دید یتا ہے تو اس میں کچھ حرج نہیں کہ وہ کچھ مناسب کمیشن اس پر لے لے۔کیونکہ نوٹ یا روپیہ یا ریز گاری کے محفوظ رکھنے اور طیار رکھنے میں وہ خود بھی وقت اور محنت خرچ کرتا ہے۔" البدر نمبر 39 جلد 6 مؤرخہ 26 ستمبر 1907 ء صفحہ 6)