فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 213

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 213 سے بنائی ہو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا:۔" شریعت کا حکم ہے کہ تو بہ کرے تو جس جس کا وہ حق ہے وہ اسے پہنچایا جاوے۔" البدر نمبر 10 جلد 2 مؤرخہ 27 / مارچ 1903 ءصفحہ 76) (۲۷۵) سود کا لین دین سوال:۔سودی روپے کے لینے اور دینے کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضرت اقدس :۔"ہمارے نزدیک سودی روپیہ لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔مومن وہ ہوتے ہیں جو اپنے ایمان پر قائم ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کا خود متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔اس قدر مومن دنیا میں گزرے ہیں وہ کبھی ایسی مشکلات میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ اللہ تعالیٰ ہر ضیق سے ان کو نجات دیتا ہے۔ہاں رسول اللہ صلی اللہ کی زندگی میں ایک نمونہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ جب کسی سے کچھ روپیہ قرض لیتے تو اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیدیتے۔اس طریق پر کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَان پر عمل ہو جاوے۔اور یہ جوزائد دید یتے وہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ اصل سے دو چند سہ چند ہوتا۔ایسی صورتیں جائز ہیں کہ اگر کسی دوست سے روپیہ لے اور کوئی شرط اس کے ساتھ نہ ہو تو صلہ مواسات کے طور پر کچھ بڑھا کر دیدے۔ہے۔لیکن جیسے آج کل عام طور پر مروج ہے کہ پہلے سود کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔یہ جائز نہیں بلکہ حرام ایمان بڑی بابرکت چیز ہے۔مومن کو اللہ تعالیٰ ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا۔مومن اپنے رب کی نسبت یقین رکھتا ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِيرٌ۔مومن کو یہ ضرورت نہیں ہوتی۔اگر ہوتی ہے تو وہ خود کفیل ہو جاتا ہے۔سود تو کوئی چیز نہیں اگر اللہ تعالیٰ مومن کو کہتا کہ تو زمین کا پانی نہ پیا کر تو میں ایمان رکھتا ہوں کہ اس کو آسمان سے پانی ملتا۔جس قدر ضعف اور لاچاری ہوتی ہے اسی قدر ایمان کی کمزوری ہوتی ہے۔کوئی گناہ چھوٹ نہیں سکتا جب تک اللہ تعالیٰ توفیق اور قوت نہ دے۔جب وہ قوت عطا کرتا ہے تو پھر سہولت کے درواز۔