فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 114
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 114 قبور سے باتیں کر دیتا ہے مگر یہ خدا کا فضل ہوتا ہے۔" فرمایا:۔اخبار بدر نمبر 11 جلد 3 مؤرخہ 16 / مارچ 1904 ، صفحہ 5) (۱۴۳) مرده پر نوحه۔ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیا پا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئیں۔جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لیں۔کسی عزیز اور پیارے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کیلئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے که صرف إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہیں یعنی ہم خدا کا مال اور ملک ہیں۔اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اس سے زیادہ کرے وہ شیطان سے ہے۔۲۔دوم برابر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیا پا کرنا اور باہم عورتوں کا سر ٹکرا کر چلانا رونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکواس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھر میں یا ہماری برادری میں ماتم ہو گیا ہے یہ سب نا پاک رسمیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پر ہیز کرنا چاہئے۔" ( اخبار بدر نمبر 30 جلد 2 مؤرخہ 26 جولائی 1906 ء صفحہ 12 ) (۱۴۴) سجدہ لغیر اللہ ظہر کے وقت حضور علیہ السلام تشریف لائے تو آپ کے ایک خادم آمده از کشمیر نے سر بسجو د ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام اُسجُدُوا لِآدَمَ کو اس کے ظاہری الفاظ پر پورا کرنا چاہا اور نہایت گریہ وزاری سے اظہار محبت کیا مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اس حرکت سے منع فرمایا اور کہا کہ " یہ مشرکانہ باتیں ہیں ان سے پر ہیز چاہئے۔" ( اخبار بدر نمبر 6 جلد 4 مؤرخہ 18 فروری 1905 ، صفحہ 3)