فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 113
فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 113 ہیں۔اب ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ مردوں سے مدد مانگنے کا خدا نے کہیں ذکر نہیں کیا بلکہ زندوں ہی کا ذکر فرمایا۔خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا جو اسلام کو زندوں کے سپرد کیا۔اگر اسلام کو مردوں پر ڈالتا تو نہیں معلوم کیا آفت آتی۔مردوں کی قبریں کہاں کم ہیں کیا ملتان میں تھوڑی قبریں ہیں۔گر دگر ما گداو گورستاں اس کی نسبت مشہور ہے۔میں بھی ایک بار ملتان گیا۔جہاں کسی قبر پر جاؤ مجاور کپڑے اُتارنے کو گرد ہو جاتے ہیں۔پاکیپٹن میں مردوں کے فیضان سے دیکھ لو کیا ہو رہا ہے۔اجمیر میں جا کر دیکھو بدعات اور محدثات کا بازار کیا گرم ہے۔غرض مردوں کو دیکھو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان کے مشاہد میں سوا بدعات اور ارتکاب مناہی کے کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ نے جو صراط المستقیم مقرر فرمایا ہے وہ زندوں کی راہ ہے مردوں کی راہ نہیں۔پس جو چاہتا ہے کہ خدا کو پائے اور حی و قیوم خدا کو ملے تو وہ زندوں کو تلاش کرے کیونکہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے نہ مردہ۔جن کا خدا مردہ ہے جن کی کتاب مردہ ہے وہ مردوں سے برکت چاہیں تو کیا تعجب ہے؟ لیکن اگر سچا مسلمان جس کا خدا زندہ خدا جس کا نبی زندہ نبی جس کی کتاب زندہ کتاب ہے اور جس دین میں ہمیشہ زندوں کا سلسلہ جاری ہو اور ہر زمانہ میں ایک زندہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا کرنے والا آتا ہو وہ اگر اس زندہ کو چھوڑ کر بوسیدہ ہڈیوں اور قبروں کی تلاش میں سرگردان ہو تو البتہ تعجب اور حیرت کی بات ہے !!! پس تم کو چاہئے کہ تم زندوں کی صحبت تلاش کرو اور بار بار اس کے پاس آکر بیٹھو۔" الحکم نمبر 26 جلد 6 مؤرخہ 24 جولائی 1902 ء صفحہ 11,10,8,5) (۱۴۲) ختم اور ختم کی ریوڑیاں سوال: ختم کی ریوڑیاں وغیرہ لے کر کھانی چاہئیں کہ نہ؟ جواب:۔"ختم کا دستور بدعت ہے شرک نہیں ہے اس لئے کھا لینی جائز ہے لیکن ختم دینا دلوانا نا جائز ہے اور اگر کسی پیر کو حاضر ناظر جان کر اس کا کھانا دیا جاتا ہے تو وہ ناجائز۔" سوال:۔یہ جو لکھا ہے کہ مدینہ جا کر شیخ عبد القادر نے يَا حَبِيْبَ اللَّهِ خُذْ بِيَدِي کہا۔جواب:۔اول تو اس کی سند کیا پھر بعض وقت اہل اللہ کو مکاشفہ ہوتا ہے اس میں خدا تعالیٰ اہل