فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 102

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کر جاتا۔" 102 عرض کیا گیا۔حضور وہ خرچ وغیرہ کمینوں میں بطور حق الخدمت تقسیم ہوتا ہے۔فرمایا:۔"تو پھر کچھ حرج نہیں۔یہ ایک علیحدہ بات ہے کسی کی خدمت کا حق تو دے دینا چاہئے۔" عرض کیا گیا۔اس میں فخر وریاء تو ضرور ہوتا ہے یعنی دینے والے کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بڑا آدمی کہے۔فرمایا:۔به نیت ایصال ثواب تو پہلے ہی وہ خرچ نہیں حق الخدمت ہے۔بعض ریاء شرعاً بھی جائز ہیں مثلاً چندہ وغیرہ۔نماز باجماعت ادا کرنے کا جو حکم ہے۔تو اسی لئے کہ دوسروں کو ترغیب ہو۔غرض اظہار و اخفاء کیلئے موقع ہے۔اصل بات یہ ہے کہ شریعت سب رسوم کو منع نہیں کرتی۔اگر ایسا ہوتا تو پھر ریل پر چڑھنا۔تار ڈاک کے ذریعہ خبر منگوانا سب بدعت ہو جاتے۔" فرمایا:۔(اخبار بدر نمبر 3 جلد 6 مؤرخہ 17 /جنوری 1907 ءصفحہ 4) (۱۳۱) قبر یکی بنانا ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میرا بھائی فوت ہو گیا ہے میں اس کی قبر کی بناؤں یا نہ بناؤں؟ اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جائیں تو یہ حرام ہے لیکن اگر خشک ملا کی طرح یہ کہا جائے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جائے تو یہ بھی حرام ہے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ عمل نیت پر موقوف ہے۔ہمارے نزدیک بعض وجوہ میں پکی کرنا درست ہے۔مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا ہے بعض جگہ قبر میں سے میت کو کتے اور بجو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔مردے کیلئے بھی ایک عزت ہوتی ہے۔اگر ایسے وجوہ پیش آجائیں تو اس حد تک نمود اور شان نہ ہو بلکہ صدمہ سے بچانے کے واسطے قبر کا پکا کرنا جائز ہے۔اللہ اور رسول نے مومن کی لاش کے واسطے بھی عزت رکھی ہے۔ورنہ عزت ضروری نہیں تو غسل دینے کفن دینے خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو۔مومن اپنے لئے ذلت نہیں چاہتا۔حفاظت ضروری ہے۔جہاں تک نیت صحیح ہے خدا تعالی مواخذہ نہیں کرتا۔دیکھو مصلحت الہی نے یہی چاہا کہ