فقہ المسیح — Page 37
فقه المسيح 37 علم فقہ اور فقہاء امرعین سرور، عین مدعا ہے اور عین آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ہمارا مذہب وہابیوں کے برخلاف ہے۔ہمارے نزدیک تقلید کو چھوڑنا ایک اباحت ہے۔کیونکہ ہر ایک شخص مجتہد نہیں ہے۔ذرا سا علم ہونے سے کوئی متابعت کے لائق نہیں ہو جاتا۔کیا وہ اس لائق ہے کہ سارے متقی اور تزکیہ کرنے والوں کی تابعداری سے آزاد ہو جاوے۔قرآن شریف کے اسرار سوائے مطہر اور پاک لوگوں کے اور کسی پر نہیں کھولے جاتے۔ہمارے ہاں جو آتا ہے۔اُسے پہلے ایک حنیفیت کا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔میرے خیال میں یہ چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں اور اسلام کے واسطے ایک چار دیوار۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے واسطے ایسے اعلیٰ لوگ پیدا کئے جو نہایت متقی اور صاحب تزکیہ تھے۔آج کل کے لوگ جو بگڑتے ہیں اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اماموں کی متابعت چھوڑ دی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کو دو قسم کے لوگ پیارے ہیں۔اوّل وہ جن کو اللہ تعالیٰ نے خود پاک کیا اور علم دیا۔دوم وہ جوان کی تابعداری کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک ان لوگوں کی تابعداری کرنے والے بہت اچھے ہیں۔کیونکہ ان کو تزکیہ نفس عطاء کیا گیا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے قریب کے ہیں میں نے خود سُنا ہے کہ بعض لوگ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے حق میں سخت کلامی کرتے ہیں۔یہ اُن لوگوں کی غلطی ہے۔( ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 277 278) اختلاف فقهاء فرمایا: آج کل علماء کے درمیان باہم مسائل میں اس قدر اختلاف ہے کہ ہر ایک مسئلہ کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اس میں اختلاف ہے۔جیسا کہ لاہور میں ایک طبیب غلام دستگیر نام تھا۔وہ کہا کرتا تھا کہ مریضوں اور اس کے لواحقین کی اس ملک میں رسم ہے کہ وہ طبیب سے