فقہ المسیح — Page 36
فقه المسيح 36 36 علم فقہ اور فقہاء سامنے وہابیوں کا ذکر بھی کیا جاتا تو گالیوں پر اتر آتا۔اس نے یہاں آکر بھی سخت گالیاں دینی شروع کیں اور وہابیوں کو بُرا بھلا کہنے لگا۔ہم نے اس کی کچھ پروا نہ کر کے اس کی خدمت خوب کی اور اچھی طرح سے اس کی دعوت کی اور ایک دن جبکہ وہ غصہ میں بھرا ہوا وہابیوں کو خوب گالیاں دے رہا تھا کسی شخص نے اس کو کہا کہ جس کے گھر تم مہمان ٹھہرے ہو وہ بھی تو وہابی ہے۔اس پر وہ خاموش ہو گیا اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں۔بدر 4 جولائی 1907 صفحہ 7) خانہ کعبہ میں چاروں مذاہب فقہ کے الگ الگ مصلے یہ تو ظاہر ہے کہ انجام کارانہی اصولوں یا مدارات کی طرف لوگ آجاتے ہیں۔جب دیکھتے ہیں کہ ایک فریق دنیا میں بکثرت پھیل گیا ہے جیسا کہ آج کل حنفی ، شافعی ، مالکی، حنبلی با وجود اُن سخت اختلافات کے جن کی وجہ سے مکہ معظمہ کی ارضِ مقدسہ بھی ان کو ایک مصلے پر جمع نہیں کرسکی ایک دوسرے سے مخالطت اور ملاقات رکھتے ہیں۔تقلید کی بھی کسی قدرضرورت ہے ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 498) ایک دفعہ ایک واعظ ایسے طرز پر حضرت کے سامنے گفتگو کرتا تھا کہ گویا اس کے نزدیک حضرت بھی فرقہ وہابیہ کے طرفدار ہیں اور اپنے تئیں بار بار حنفی اور وہابیوں کا دشمن ظاہر کرتا تھا اور کہتا تھا کہ حق کا طالب ہوں۔اس پر حضرت نے فرمایا: اگر کوئی محبت اور آہستگی سے ہماری باتیں سنے تو ہم بڑی محبت کرنے والے ہیں اور قرآن اور حدیث کے مطابق ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی اس طرح فیصلہ کرنا چاہے کہ جو امر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے مطابق ہو، اُسے قبول کر لے گا اور جوان کے برخلاف ہوا سے رد کر دے گا۔تو یہ