فقہ المسیح — Page 514
فقه المسيح 514 جہاد کی حقیقت جہاد کی حقیقت جہاد بالقتال کی ممانعت کا فتویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم پیشگوئی يَضَعُ الْحَرْبِ اور يَضَعُ الْجِزْيَةَ کو پورا کرتے ہوئے جہاد کے مسئلہ کی حقیقت واضح فرمائی۔آپ کی تحریرات اور ملفوظات میں بکثرت یہ مضمون ملتا ہے۔آپ نے اس مقصد کے لئے ایک کتاب تصنیف فرمائی گورنمنٹ انگریزی اور جہاد اور اس کتاب میں آپ نے پوری تفصیل کے ساتھ جہاد کی تعلیم کے مختلف پہلو بیان فرما دیئے۔آپ نے تحریر فرمایا: ” جہاد کے مسئلہ کی فلاسفی اور اس کی اصل حقیقت ایسا ایک پیچیدہ امر اور دقیق نکتہ ہے کہ جس کے نہ سمجھنے کے باعث سے اس زمانہ اور ایسا ہی درمیانی زمانہ کے لوگوں نے بڑی بڑی غلطیاں کھائی ہیں اور ہمیں نہایت شرم زدہ ہو کر قبول کرنا پڑتا ہے کہ ان خطرناک غلطیوں کی وجہ سے اسلام کے مخالفوں کو موقع ملا کہ وہ اسلام جیسے پاک اور مقدس مذہب کو جو سراسر قانون قدرت کا آئینہ اور زندہ خدا کا جلال ظاہر کرنے والا ہے مورد اعتراض ٹھہراتے ہیں۔“ لفظ جہد کی تحقیق وو جاننا چاہیے کہ جہاد کا لفظ جُہد کے لفظ سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں کوشش کرنا اور پھر مجاز کے طور پر دینی لڑائیوں کے لئے بولا گیا اور معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں میں جو لڑائی کو یدہ کہتے ہیں دراصل یہ لفظ بھی جہاد کے لفظ کا ہی بگڑا ہوا ہے۔چونکہ عربی زبان تمام زبانوں کی ماں ہے اور تمام زبانیں اسی میں سے نکلی ہیں اس لئے یدہ کا لفظ جو سنسکرت