فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 515 of 611

فقہ المسیح — Page 515

فقه المسيح 515 جہاد کی حقیقت کی زبان میں لڑائی پر بولا جاتا ہے دراصل جہد یا جہاد ہے اور پھر جیم کو یا کے ساتھ بدل دیا 66 گیا اور کچھ تصرف کر کے تشدید کے ساتھ بولا گیا۔“ انبیاء کی مخالفت کے اسباب اب ہم اس سوال کا جواب لکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کو جہاد کی کیوں ضرورت پڑی اور جہاد کیا چیز ہے۔سو واضح ہو کہ اسلام کو پیدا ہوتے ہی بڑی بڑی مشکلات کا سامنا پڑا تھا اور تمام قو میں اس کی دشمن ہو گئی تھیں جیسا کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک نبی یا رسول خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس کا فرقہ لوگوں کو ایک گروہ ہونہار اور راستباز اور با ہمت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اس کی نسبت موجودہ قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور ایک قسم کا بغض اور حسد پیدا ہو جایا کرتا ہے۔بالخصوص ہر ایک مذہب کے علماء اور گدی نشین تو بہت ہی بغض ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اُس مرد خدا کے ظہور سے ان کی آمد نیوں اور وجاہتوں میں فرق آتا ہے۔اُن کے شاگرد اور مرید اُن کے دام سے باہر نکلنا شروع کرتے ہیں کیونکہ تمام ایمانی اور اخلاقی اور علمی خوبیاں اس شخص میں پاتے ہیں جو خدا کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔لہذا اہل عقل اور تمیز سمجھنے لگتے ہیں کہ جو عزت بخیال علمی شرف اور تقویٰ اور پرہیز گاری کے اُن عالموں کو دی گئی تھی اب وہ اس کے مستحق نہیں رہے اور جو معزز خطاب اُن کو دیئے گئے تھے جیسے نجم الأمة اور شمس الأمة اور شيخ المشائخ وغیرہ اب وہ ان کے لئے موزوں نہیں رہے۔سوان وجوہ سے اہل عقل اُن سے منہ پھیر لیتے ہیں۔کیونکہ وہ اپنے ایمانوں کو ضائع کرنا نہیں چاہتے۔ناچاران نقصانوں کی وجہ سے علماء اور مشائخ کا فرقہ ہمیشہ نبیوں اور رسولوں سے حسد کرتا چلا آیا ہے۔۔یہ کہ خدا کے نبیوں اور ماموروں کے وقت ان لوگوں کی سخت پردہ دری ہوتی ہے کیونکہ دراصل وہ ناقص ہوتے ہیں اور بہت ہی کم حصہ نور سے رکھتے ہیں اور ان کی دشمنی خدا کے