فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 486 of 611

فقہ المسیح — Page 486

فقه المسيح 486 متفرق کہ اگر وہ ایسی لونڈیوں اور غلاموں کو آزاد کر دیں تو خدا کے نزدیک بڑا اجر حاصل کریں گے۔اگر چه مسلمان بادشاہ ایسے خبیث اور چنڈال لوگوں پر فتح یاب ہو کر غلام اور لونڈی بنانے کا حق رکھتا ہے مگر پھر بھی بدی کے مقابل پر نیکی کرنا خدا نے پسند فرمایا ہے۔یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے زمانہ میں اسلام کے مقابل پر جو کافر کہلاتے ہیں انہوں نے یہ تعدی اور زیادتی کا طریق چھوڑ دیا ہے۔اس لئے اب مسلمانوں کے لئے بھی روا نہیں کہ ان کے قیدیوں کو لونڈی غلام بنادیں کیونکہ خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے جو تم جنگجو فرقہ کے مقابل پر صرف اسی قدر زیادتی کرو جس میں پہلے انہوں نے سبقت کی ہو پس جبکہ اب وہ زمانہ نہیں ہے اور اب کا فر لوگ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسی سختی اور زیادتی نہیں کرتے کہ ان کو اور ان کے مردوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بناویں بلکہ وہ شاہی قیدی سمجھے جاتے ہیں اس لئے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا نا جائز اور حرام ہے۔منہ) زنا کی گواہی چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 252 تا 254) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ شرعی طور پر زنا کے الزام کا گواہ جب تک سلائی اور سرمہ دانی والی حالت کی چشم دید گواہی نہ دے تب تک اس کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے یہ الفاظ ایک حدیث کا ترجمہ ہیں۔جس کے یہ الفاظ ہیں کہ كَالْمِيْلِ فِي الْمِكْحَلَةِ - مہندی لگانا سنت ہے (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 804) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مُراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ