فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 611

فقہ المسیح — Page 485

فقه المسيح 485 متفرق مگر لونڈی کی طرح) اُس کو داخل کرتے تھے اور کوئی پہلو ظلم کا نہیں تھا جو انہوں نے اٹھا رکھا تھا۔ایک مدت دراز تک مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی حکم ملتا رہا کہ ان لوگوں کی شرارتوں پر صبر کرو مگر آخر کار جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو خدا نے اجازت دے دی کہ اب ان شریر لوگوں سے لڑو اور جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اس سے زیادہ نہ کرو لیکن پھر بھی مثلہ کرنے سے منع کیا یعنی منع فرما دیا کہ کافروں کے کسی مقتول کی ناک کان ہاتھ وغیرہ نہیں کاٹنے چاہئیں اور جس بے عزتی کو مسلمانوں کے لئے وہ لوگ پسند کرتے تھے اس کا بدلہ لینے کے لئے حکم دے دیا۔اسی بنا پر اسلام میں یہ رسم جاری ہوئی کہ کافروں کی عورتیں لونڈی کی طرح رکھی جائیں اور عورتوں کی طرح استعمال کی جائیں یہ تو انصاف اور طریق عدل سے بعید تھا کہ کا فر تو جب کسی مسلمان عورت کو اپنے قبضہ میں لا دیں تو اُس کو لونڈی بناویں اور عورتوں کی طرح اُن کو استعمال کریں اور جب مسلمان اُن کی عورتوں اور اُن کی لڑکیوں کو اپنے قبضہ میں کریں تو ماں بہن کر کے رکھیں۔خدا بے شک حلیم ہے مگر وہ سب سے زیادہ غیرت مند ہے۔( حاشیہ۔یادر ہے کہ نکاح کی اصل حقیقت یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی کی اور نیز مرد کی بھی رضا مندی کی جاتی ہے لیکن جس حالت میں ایک عورت اپنی آزادی کے حقوق کھو چکی ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ وہ ان ظالم طبع جنگجو لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں پر بے جا ظلم کئے ہیں تو ایسی عورت جب گرفتار ہو کر اپنے اقارب کے جرائم کی پاداش میں لونڈی بنائی گئی تو اس کی آزادی کے حقوق سب تلف ہو گئے لہذا وہ اب فتحیاب بادشاہ کی لونڈی ہے اور ایسی عورت کو حرم میں داخل کرنے کے لئے اس کی رضا مندی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے جنگجو قارب پر فتحیاب ہو کر اس کو اپنے قبضہ میں لانا یہی اس کی رضا مندی ہے۔یہی حکم تو ریت میں بھی موجود ہے ہاں قرآن شریف میں فَكُ رَقَبَةٍ یعنی لونڈی غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام بیان فرمایا ہے اور عام مسلمانوں کو رغبت دی ہے