فقہ المسیح — Page 487
فقه المسيح 487 متفرق ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم آگرہ سے تین ماہ کی رخصت لے کر آئے۔حضور نے اونچا دالان رہنے کو دیا۔میرا معمول تھا کہ روزانہ نماز عصر کے بعد حضور کی خدمت میں سلام کو جاتی۔حضرت اقدس واُم المومنین صاحبه ام ناصر والے صحن میں پلنگ پر بیٹھے تھے۔میں سلام کر کے ایک چھوٹی چار پائی پر جو سامنے پڑی تھی بیٹھ گئی۔میں اس وقت زیادہ تر سفید کپڑے ہی پہنتی تھی۔حضور نے حضرت ام المومنین سے دریافت کیا کہ ” کیا یہ ہمیشہ سفید کپڑے پہنتی ہیں؟ اماں جان نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم کو رنگین کپڑے پسند نہیں ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حضور پسند تو ہیں لیکن کپڑے رنگنے سے ہاتھ خراب ہو جاتے ہیں۔حضور نے میرے ہاتھوں کو دیکھ کر فرمایا کہ "مراد خاتون کیا تم مہندی نہیں لگایا کرتیں ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔حضور نے فرمایا ” کیوں؟ میں نے پھر کہا کہ حضور ہاتھ خراب ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ ” مہندی لگانا سنت ہے۔عورتوں کو ہاتھ سفید نہیں رکھنے چاہئیں۔اتنے میں میر ناصر نواب صاحب مرحوم جو لا ہور کچھ سامان لینے گئے ہوئے تھے تشریف لائے۔اس سامان میں کچھ کپڑا اور بڑا پڑا مہندی کا بھی تھا۔آپ نے حضرت اماں جان سے پوچھا کہ گھر میں مہندی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مہندی گھر میں ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ مہندی اور ایک قمیض کا کپڑا مراد خاتون کو دے دو اور اس کو کہہ دو کہ مہندی لگا یا کرے۔وہ کپڑار یشمی موتیا رنگ کا تھا۔اس دن سے میں عموما مہندی لگاتی ہوں اور رنگین کپڑا بھی پہنتی ہوں۔66 (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 235 ، 236) خلاف شرع امور میں والدین کی فرمانبرداری کس حد تک کی جائے؟ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دہلی پہنچ کر مولوی نذیرحسین صاحب اور مولوی محمد بشیر بھوپالوی سے مباحثہ فرمایا تھا۔اُس سفر سے واپسی پر جماعت پٹیالہ کی