فقہ المسیح — Page 445
فقه المسيح 445 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون اب بتلاؤ یہ تعلیمیں انجیل میں کہاں ہیں۔اگر ایسی تعلیمیں ہوتیں تو عیسائیوں میں اپریل فول کی گندی رسمیں اب تک کیوں جاری رہتیں۔دیکھو اپریل فول کیسی بُری رسم ہے کہ ناحق جھوٹ بولنا اس میں تہذیب کی بات سمجھی جاتی ہے۔یہ عیسائی تہذیب اور انجیلی تعلیم ہے۔معلوم ہوتا ہے۔کہ عیسائی لوگ جھوٹ سے بہت ہی پیار کرتے ہیں۔چنا نچہ عملی حالت اس پر شاہد ہے مثلاً قرآن تو تمام مسلمانوں کے ہاتھ میں ایک ہی ہے مگر سنا گیا ہے کہ انجیلیں ساٹھ سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔شاباش اے پادریان ! جھوٹ کی مشق بھی اسے کہتے ہیں۔شاید آپ نے اپنے ایک مقدس بزرگ کا قول سنا ہے کہ جھوٹ بولنا نہ صرف جائز بلکہ ثواب کی بات ہے۔( مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 199) دینی غیرت کا اظہار ر عیسائیوں کے کنوئیں کا پانی نہ لیا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن ایام میں عبداللہ آتھم عیسائی کے ساتھ مباحثہ شروع ہو گیا تھا موسم گرما تھا۔پانی کی ضرورت پڑتی تھی لیکن پانی اپنے ساتھ لے جایا جاتا تھا۔عیسائیوں کے چاه (کنوئیں ) کا پانی نہیں لیا جاتا تھا کیونکہ عیسائی قوم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والی ہے۔لہذا ان کے چاہ کا پانی پینا حضور پسند نہ فرماتے تھے۔دینی غیرت کا اظہار / مٹھائی نہیں کھائی (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 198 ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مباحثہ آتھم میں فریقین کی تقاریر جو قلمبند ہوتی تھیں۔دونوں فریق کے کاتبان تحریر آپس میں اُن کا مقابلہ کر لیتے تھے۔کبھی اُن کے کا تب آجاتے ،کبھی میں جاتا۔ایک دفعہ میں مضمون کا مقابلہ کرانے کے لئے آتھم کے مکان پر گیا۔جا کر بیٹھا ہی تھا کہ