فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 611

فقہ المسیح — Page 446

فقه المسيح 446 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون آتھم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟ میں نے کہا قصبہ بڈھانہ ضلع مظفر آباد کا۔اس نے کہا وہاں کے منشی عبدالواحد صاحب منصف ایک میرے دوست تھے۔میں نے کہا کہ وہ میرے چچا تھے۔پھر کسی جگہ کا آتھم نے ذکر کیا کہ میں وہاں کا ڈپٹی تھا اور منشی عبدالواحد صاحب بھی وہاں منصف یا تحصیلدار تھے اور میرا اُن کا بڑا تعلق تھا۔اور وہ بھی اپنے آپ کو مہم سمجھتے تھے۔تم تو میرے بھیجے ہوئے اور وہ اپنی مستورات کو لے آیا اور اُن سے ذکر کیا کہ یہ میرے بھتیجے ہیں ان کی خاطر کرنی چاہیے۔چنانچہ اسی وقت مٹھائی وغیرہ لائی گئی۔میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کھا سکتا کیونکہ ہمارے حضرت صاحب نے بعض عیسائیوں کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا اور فرمایا تھا کہ تم ہمارے آقا اور مولا کی ہتک کرتے ہو تو ہم تمہاری دعوت کیسے قبول کر سکتے ہیں۔اسی وجہ سے میں بھی چائے نہیں پی سکتا۔وہ کہتا رہا کہ احمدی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بھتیجا ہونے کی وجہ سے دعوت کرتے ہیں۔اس کے بعد میں مضمون کا مقابلہ کرائے بغیر وہاں سے چلا آیا اور حضور کی خدمت میں یہ واقعہ عرض کیا۔حضور نے فرمایا کہ آپ نے بہت اچھا کیا۔تمہیں وہاں جا کر مقابلہ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔انہیں خواہش ہو تو خود آجایا کریں۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 49،48) دینی غیرت کا اظہار / بدگو مخالفین سے معانقہ نا جائز قرار دیا حضرت اقدس سے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا اور معانقہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے کہ وہ لوگ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ہم اُن سے معانقہ کریں۔قرآن شریف ایسی مجلسوں میں بیٹھنے سے بھی منع فرماتا ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے اور پھر یہ لوگ خنز بر خور ہیں۔اُن کے ساتھ کھانا کھانا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔اگر کوئی