فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 611

فقہ المسیح — Page 444

فقه المسيح 444 امور معاشرت ، رہن سہن ر با ہمی تعاون که تا امت کو تکلیف نہ ہو۔جائز ضرورتوں پر اس طرح کھانا جائز ہے۔مگر بالکل اس کا پابند ہونا اور تکلف کرنا اور کھانے کے دوسرے طریقوں کو حقیر جاننا منع ہے کیونکہ پھر آہستہ آہستہ انسان کی نوبت تنتبع کی یہاں تک پہنچ جاتی ہے۔کہ وہ ان کی طرح طہارت کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَمِنْهُمُ سے مراد یہی ہے کہ التزاماً ان باتوں کو نہ کرے ورنہ بعض وقت ایک جائز ضرورت کے لحاظ سے کر لینا منع نہیں ہے جیسے کہ بعض دفعہ کام کی کثرت ہوتی ہے اور بیٹھے لکھتے ہوتے ہیں تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ کھانا میز پر لگا دو اور اس پر کھا لیتے ہیں اور صف پر بھی کھا لیتے ہیں۔چار پائی پر بھی کھا لیتے ہیں تو ایسی باتوں میں صرف گزارہ کو مدنظر رکھنا چاہیے۔تشبیہ کے معنے اس حدیث میں یہی ہیں کہ اس لکیر کو لازم پکڑ لینا۔ورنہ ہمارے دین کی سادگی تو ایسی شے ہے کہ جس پر دیگر اقوام نے رشک کھایا ہے اور خواہش کی ہے کہ کاش ان کے مذہب میں یہ ہوتی اور انگریزوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اکثر اصول ان لوگوں نے عرب سے لے کر اختیار کئے ہیں مگر اب رسم پرستی کی خاطر وہ مجبور ہیں ، ترک نہیں کر سکتے۔اپریل فول ایک گندی رسم ہے فرمایا: (البدر 6 فروری 1903 ، صفحہ 21) قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے۔اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار دوست مت بناؤ۔اور خدا سے ڈرو اور بچوں کے ساتھ رہو۔اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو، ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔