فقہ المسیح — Page 443
فقه المسيح 443 امور معاشرت ، رہن سہن ، باہمی تعاون اگر کوئی ویسے ہی رکھ لیوے تو یہ ہرگز جائز نہیں۔مسلمانوں کو اپنی ہر ایک چال میں وضع قطع میں غیرت مندانہ چال رکھنی چاہیے ہمارے آنحضرت ﷺ نہ بند بھی باندھا کرتے تھے اور سراویل بھی خریدنا آپ کا ثابت ہے جسے ہم پاجامہ یا تنبی کہتے ہیں ان میں سے جو چاہے پہنے۔علاوہ ازیں ٹوپی، گرنہ ، چادر اور پگڑی بھی آپ کی عادت مبارک تھی جو چاہے پہنے کوئی حرج نہیں۔ہاں البتہ اگر کسی کو کوئی نئی ضرورت در پیش آئے تو اسے چاہئے کہ ان میں سے ایسی چیز کو اختیار کرے جو کفار سے تشبیہ نہ رکھتی ہو اور اسلامی لباس سے نزدیک تر ہو۔جب ایک شخص اقرار کرتا ہے کہ میں ایمان لایا تو پھر اس کے بعد وہ ڈرتا کس چیز سے ہے اور وہ کون سی چیز ہے جس کی خواہش اب اس کے دل میں باقی رہ گئی ہے کیا کفار کی رسوم و عادات کی؟ اب اُسے ڈر چاہیے تو خدا کا اور اتباع چاہیے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی کسی ادنیٰ سے گناہ کو خفیف نہ جاننا چاہیے بلکہ صغیرہ ہی سے کبیرہ بن جاتے ہیں اور صغیرہ ہی کا اصرار کبیرہ ہے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں۔سیالکوٹ سے ایک دو با رانگریزی جوتا آیا۔ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل ہوتا تھا کبھی ادھر کا ادھر اور کبھی بائیں کا دائیں۔آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا۔آخر میں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں۔کھانے کے لئے چھری کانٹے کا استعمال جائز ہے چھری کانٹے سے کھانے پر فرمایا: الحکم 17 اپریل 1903 ، صفحہ 8) شریعت اسلام نے چھری سے کاٹ کر کھانے سے تو منع نہیں کیا۔ہاں تکلف سے ایک بات یا فعل پر زور ڈالنے سے منع کیا ہے۔اس خیال سے کہ اس قوم سے مشابہت نہ ہو جاوے ورنہ یوں تو ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا اور یہ فعل اس لئے کیا