فقہ المسیح — Page 416
فقه المسيح 416 بدعات اور بد رسومات ہوا۔قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : 32) پر عمل کرو اور ایسی فنا اتم تم پر آ جائے کہ تبل إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (المزمل:(9) کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کرلو۔یہ امور ہیں جن کے حصول کی ضرورت ہے۔نادان انسان اپنے عقل اور خیال کے پیمانہ سے خدا کو نا پنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کرے اور یہی ناممکن ہے۔پس میری نصیحت یہی ہے کہ ان خیالات سے بالکل الگ رہو اور وہ طریق اختیار کرو جو خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اپنے طرز عمل سے ثابت کر دکھایا کہ اسی پر چل کر انسان دنیا اور آخرت میں فلاح اور فوز حاصل کر سکتا ہے اور صحابہ کرام کو جس کی تعلیم دی۔پھر وقتا فوقتا خدا کے برگزیدوں نے سنت جاریہ کی طرح اپنے اعمال سے ثابت کیا اور آج بھی خدا نے اسی کو پسند کیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا اصل منشاء یہی ہوتا تو ضرور تھا کہ آج بھی جب اس نے ایک سلسلہ گمشدہ صداقتوں اور حقائق کے زندہ کرنے کے لئے قائم کیا یہی تعلیم دیتا ہے اور میری تعلیم کا منتہا یہی ہوتا۔مگر تم دیکھتے ہو کہ خدا نے ایسی تعلیم نہیں دی ہے، بلکہ وہ تو قلب سلیم چاہتا ہے وہ محسنوں اور متقیوں کو پیار کرتا ہے، ان کا ولی ہوتا ہے۔کیا سارے قرآن میں ایک جگہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ ان کو پیار کرتا ہے جن کے قلب جاری ہوں؟ یقیناً سمجھو کہ یہ محض خیالی باتیں اور کھیلیں ہیں جن کا اصلاح نفس اور روحانی امور سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے، بلکہ ایسے کھیل خدا سے بعد کا موجب ہو جاتے ہیں اور انسان کے عملی حصہ میں مضر ثابت ہوتے ہیں، اس لئے تقویٰ اختیار کرو۔سنت نبوی کی عزت کرو اور اس پر قائم ہو کر دکھاؤ جو قرآن شریف کی تعلیم کا اصل فخر یہی ہے۔سوال: پھر صوفیوں کو کیا غلطی لگی؟ جواب: ان کو حوالہ بخدا کرو۔معلوم نہیں انہوں نے کیا سمجھا اور کہاں سے سمجھا تِلكَ أُمَّةٌ