فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 611

فقہ المسیح — Page 415

فقه المسيح 415 بدعات اور بد رسومات خدا یہی چاہتا ہے کہ خدا میں فنا ہو جاؤ اور اس کے حدود و شرائع کی عظمت کرو۔قرآن فناء نظری کی تعلیم دیتا ہے۔میں نے آزما کر دیکھا ہے کہ قلب جاری ہونے کی صرف ایک مشق ہے جس کا انحصار صلاح و تقویٰ پر نہیں ہے۔ایک شخص منٹگمری یا ملتان کے ضلع کا مجھے چیف کورٹ میں ملا کرتا تھا، اسے اجرائے قلب کی خوب مشق تھی۔پس میرے نزدیک یہ کوئی قابل وقعت بات نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کو کوئی عزت اور وقعت نہیں دی۔خدا تعالیٰ کا منشا اور قرآن شریف کی تعلیم کا مقصد صرف یہ تھا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس : 10) کپڑا جب تک سارا نہ دھویا جائے وہ پاک نہیں ہو سکتا۔اسی طرح پر انسان کے سارے جوارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوئے جائیں۔کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔اس کے سوا یہ بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے کہ خدا کا سنوارا ہوا بگڑتا نہیں ،مگر انسان کی بناوٹ بگڑ جاتی ہے۔ہم گواہی دیتے ہیں اور اپنے تجربے کی بناء پر گواہی دیتے ہیں کہ جب تک انسان اپنے اندر خدا تعالیٰ کی مرضی اور سنت نبوی کے موافق تبدیلی نہیں کرتا اور پاکیزگی کی راہ اختیار نہیں کرتا تو خواہ اس کے قلب سے ہی آواز آتی ہو ، وہ زہر جو انسان کی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے دور نہیں ہوسکتی۔روحانیت کے نشوونما اور زندگی کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔جو لوگ قلب جاری ہونے کے شعبدے لئے پھرتے ہیں انہوں نے سنت نبوی کی سخت توہین کی ہے۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان دنیا میں گزرا ہے؟ پھر غار حرا میں بیٹھ کر وہ قلب جاری کرنے کی مشق کیا کرتے تھے یافتنا کا طریق آپ نے اختیار کیا ہوا تھا؟ پھر آپ کی ساری زندگی میں کہیں اس امر کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ آپ نے صحابہ کو یہ تعلیم دی ہو کہ تم قلب جاری کرنے کی مشق کرو اور کوئی ان قلب جاری کرنے والوں میں سے پتا نہیں دیتا اور کبھی نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھی قلب بھی جاری تھا۔یہ تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ کبھی کچھ بھی نہیں