فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 611

فقہ المسیح — Page 299

فقه المسيح فرمایا:۔299 خلع جو شخص دو بیویاں کرتا ہے اس میں خدا تعالیٰ کا حرج نہیں اگر حرج ہے تو اس بیوی کا جو پہلی بیوی ہے یا دوسری بیوی کا۔پس اگر پہلی بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی سمجھتی ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پاسکتی ہے اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ خلع کر اسکتی ہے اور اگر دوسری بیوی اپنا کچھ حرج سمجھتی ہے تو وہ اپنے نفع نقصان کو خود مجھتی ہے۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 247) حاکم وقت کے ذریعے خلع حاصل کرنے کی وجہ؟ فرمایا:۔مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضرور یہ میں سے ہے اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہو جاتا ہے صرف یہ فرق ہے کہ اگر مرد کی طرف سے شرائط ٹوٹ جائیں تو عورت خود بخود نکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود بخو دنکاح کرنے کی مجاز نہیں بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے نکاح کوتوڑ سکتی ہے جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کراسکتی ہے اور یہ کی اختیار اس کی فطرتی شتاب کاری اور نقصان عقل کی وجہ سے ہے۔(آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 37 ) خلع میں جلدی نہیں کرنی چاہئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں معراج الدین صاحب عمر کے ساتھ ایک نومسلمہ چوہڑی لاہور سے آئی۔اس کے نکاح کا ذکر ہوا تو حافظ عظیم بخش صاحب مرحوم پٹیالوی