فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 611

فقہ المسیح — Page 298

فقه المسيح 298 خلع عورت کو ضلع کا اختیار حاصل ہے فرمایا:۔خلع شریعت اسلام نے صرف مرد کے ہاتھ میں ہی یہ اختیار نہیں رکھا کہ جب کوئی خرابی دیکھے یا نا موافقت پاوے تو عورت کو طلاق دے دے بلکہ عورت کو بھی یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ بذریعہ حاکم وقت کے طلاق لے لے۔اور جب عورت بذریعہ حاکم کے طلاق لیتی ہے تو اسلامی اصطلاح میں اس کا نام خُلع ہے۔جب عورت مرد کو ظالم پاوے یا وہ اُس کو ناحق مارتا ہو یا اور طرح سے نا قابل برداشت بدسلوکی کرتا ہو یا کسی اور وجہ سے نا موافقت ہو یا وہ مرد در اصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اُس کے گھر میں آبادر بنانا گوار ہو تو ان تمام حالتوں میں عورت یا اُس کے کسی ولی کو چاہئے کہ حاکم وقت کے پاس یہ شکایت کرے اور حاکم وقت پر یہ لازم ہوگا کہ اگر عورت کی شکایت واقعی درست سمجھے تو اس عورت کو اس مرد سے اپنے حکم سے علیحدہ کر دے اور نکاح کو تو ڑ دے لیکن اس حالت میں اس مرد کو بھی عدالت میں بلانا ضروری ہوگا کہ کیوں نہ اُس کی عورت کو اُس سے علیحدہ کیا جائے۔اب دیکھو کہ یہ کس قدر انصاف کی بات ہے کہ جیسا کہ اسلام نے یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی عورت بغیر ولی کے جو اُس کا باپ یا بھائی یا اور کوئی عزیز ہو خود بخود اپنا نکاح کسی سے کر لے ایسا ہی یہ بھی پسند نہیں کیا کہ عورت خود بخود مرد کی طرح اپنے شوہر سے علیحدہ ہو جائے بلکہ جدا ہونے کی حالت میں نکاح سے بھی زیادہ احتیاط کی ہے کہ حاکم وقت کا ذریعہ بھی فرض قرار دیا ہے تا عورت اپنے نقصان عقل کی وجہ سے اپنے تئیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 289،288) تعدد ازدواج پر ہونے والے اعتراض کے ضمن میں عورت کے حق ضلع کا ذکر کرتے ہوئے