فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 611

فقہ المسیح — Page 297

فقه المسيح 297 طلاق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے دوسری شادی کی تو کسی وجہ سے جلدی ہی اس بیوی کو طلاق دے دی۔پھر بہت مدت شاید سال کے قریب گزر گیا۔تو حضرت صاحب نے چاہا کہ وہ اس بی بی کو پھر آباد کر یں۔چنانچہ مسئلہ کی تفتیش ہوئی اور معلوم ہوا کہ طلاق بائن نہیں ہے بلکہ رجعی ہے۔اس لئے آپ کی منشاء سے ان کا دوبارہ نکاح ہو گیا۔( یہاں بائن سے مراد دراصل طلاق بتہ ہے۔ناقل ) خاکسار عرض کرتا ہے کہ پہلی بیوی سے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے اولاد نہیں ہوتی تھی اور حضرت صاحب کو آرزو تھی کہ ان کے اولا د ہو جائے۔اسی لئے آپ نے تحریک کر کے شادی کروائی تھی۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 761) نابالغ کی طرف سے اس کا ولی طلاق دے سکتا ہے سوال : اگر نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح اس کا ولی کردے اور ہنوز وہ نابالغ ہی ہو اور ایسی ضرورت پیش آوے تو کیا طلاق بھی ولی دے سکتا ہے؟ جواب: فرمایا: وو دے سکتا ہے۔“ ( بدر 25 جولائی 1907 ، صفحہ 11)