فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 611

فقہ المسیح — Page 296

فقه المسيح 296 طلاق جائز رکھا ہے اور پھر عدت کے گذرنے کے بعد اسی خاوند سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اول اسے شرعی طریق سے طلاق نہیں دی۔قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو طلاق بہت ناگوار ہے کیونکہ اس سے میاں بیوی دونوں کی خانہ بربادی ہو جاتی ہے اس واسطے تین طلاق اور تین طہر کی مدت مقرر کی ہے کہ اس عرصہ میں دونوں اپنا نیک و بد سمجھ کر اگر صلح چاہیں تو کر لیں۔(البدر 24 را پریل 1903 ، صفحہ 105) ایک شخص نے حضرت مسیح موعود کو خط لکھا اور فتویٰ طلب کیا کہ ایک شخص نے از حد غصہ کی حالت میں اپنی عورت کو تین دفعہ طلاق دی، دلی منشاء نہ تھا۔اب ہر دو پر یشان اور اپنے تعلقات کو توڑنا نہیں چاہتے۔حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا: فتویٰ یہ ہے کہ جب کوئی ایک ہی جلسہ میں طلاق دے تو یہ طلاق ناجائز ہے اور قرآن کے برخلاف ہے اس لئے رجوع ہو سکتا ہے۔صرف دوبارہ نکاح ہو جانا چاہئے اور اسی طرح ہم ہمیشہ فتویٰ دیتے ہیں اور یہی حق ہے۔“ طلاق کے بعد دوبارہ نکاح ( بدر 31 جنوری 1907 صفحہ 4 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گاؤں موضع کرالیاں میں تشریف لائے۔میاں چراغ دین ساکن تھہ غلام نبی نے اپنی بیوی مسماۃ حسو کو طلاق دے دی ہوئی تھی۔حضرت جی وہاں صلح کرانے گئے تھے تو وہاں جا کر رات رہے اور دوبارہ نکاح کرا دیا اور رات کو دیر تک وعظ بھی کیا۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 116 ، 117 )