فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 611

فقہ المسیح — Page 295

فقه المسيح 295 طلاق فَإِمْسَاتٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسُرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔۔۔(البقرة : 230 )۔۔۔۔اور چاہیئے کہ جن عورتوں کو طلاق دی گئی وہ رجوع کی امید کے لئے تین حیض تک انتظار کریں اور ان تین حیض میں جو قریباً تین مہینے ہیں دو دفعہ طلاق ہوگی یعنی ہر یک حیض کے بعد خاوند عورت کو طلاق دے اور جب تیسرا مہینہ آوے تو خاوند کو ہوشیار ہو جانا چاہئے کہ اب یا تو تیسری طلاق دے کر احسان کے ساتھ دائمی جدائی اور قطع تعلق ہے اور یا تیسری طلاق سے رک جائے اور عورت کو حسن معاشرت کے ساتھ اپنے گھر میں آباد کرے اور یہ جائز نہیں ہوگا کہ جو مال طلاق سے پہلے عورت کو دیا تھا وہ واپس لے لے اور اگر تیسری طلاق جو تیسرے حیض کے بعد ہوتی ہے دیدے تو اب وہ عورت اس کی عورت نہیں رہی اور جب تک وہ دوسرا خاوند نہ کر لے تب تک نیا نکاح اس سے نہیں ہوسکتا۔( آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 52-53) ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دینا نا جائز ہے ایک شخص کے سوال پر فرمایا : طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہو سکتی۔طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں۔فقہاء نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائز رکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔قرآن کریم کی رو سے جب تین طلاق دے دی جاویں تو پہلا خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی اور کے نکاح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلا عمداً سے طلاق دیدے۔اگر وہ عمدا اسی لیے طلاق دیگا کہ اپنے پہلے خاوند سے وہ پھر نکاح کر لیوے تو یہ حرام ہوگا کیونکہ اسی کا نام حلالہ ہے جو کہ حرام ہے۔فقہاء نے جو ایک دم کی تین طلاقوں کو