فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 611

فقہ المسیح — Page 294

فقه المسيح 294 طلاق دراصل قرآن شریف میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ امرنہایت ہی ناگوار ہے کہ پرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑ کر الگ الگ ہو جائیں۔یہی وجہ ہے کہ اس نے طلاق کے واسطے بڑے بڑے شرائط لگائے ہیں۔وقفہ کے بعد تین طلاق کا دینا اور ان کا ایک ہی جگہ رہنا وغیرہ یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت اُن کے دلی رنج دور ہو کر آپس میں صلح ہو جاوے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار وغیرہ آپس میں لڑائی کرتے ہیں اور تازے جوش کے وقت میں حکام کے پاس عرضی پر چے لے کر آتے ہیں تو آخر دانا حکام اس وقت ان کو کہہ دیتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا۔اصل غرض ان کی صرف یہی ہوتی ہے کہ یہ آپس میں صلح کر لیں گے اور ان کے یہ جوش فرو ہوں گے تو پھر ان کی مخالفت باقی نہ رہے گی۔اسی واسطے وہ اس وقت ان کی وہ درخواست لینا مصلحت کے خلاف جانتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی مرد اور عورت کے الگ ہونے کے واسطے ایک کافی موقعہ رکھ دیا ہے یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ طرفین کو اپنی بھلائی برائی کے سوچنے کا موقعہ مل سکتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے : الطَّلَاقُ مَرَّتَانَ (البقرة : 230) یعنی دو دفعہ کی طلاق ہونے کے بعد یا اسے اچھی طرح سے رکھ لیا جاوے یا احسان سے جدا کر دیا جاوے۔اگر اتنے لمبے عرصہ میں بھی ان کی آپس میں صلح نہیں ہوتی تو پھر ممکن نہیں کہ وہ اصلاح پذیر ہوں۔طلاق وقفے وقفے سے دی جائے الحکم 10 را پریل 1903ء صفحہ 14) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم میں مذکور طلاق کے متعلق درج ذیل آیات درج فرما کر ان کی تفسیر بیان فرمائی:۔وَالْمَطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ (البقرة : 229) اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ