فقہ المسیح — Page 293
فقه المسيح 293 طلاق مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمع ہو چکا تھا اور یہ کلام الہی تھا اور حدیث شریف کا ایسا انتظام نہیں تھا اور نہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھی گئی تھیں اور وہ مرتبہ اور درجہ جو قرآن شریف کو حاصل ہے وہ حدیث کو نہیں ہے کیونکہ یہ روایت در روایت پہنچی ہیں اگر کوئی شخص اس بات کی قسم کھاوے کہ قرآن شریف کا حرف حرف کلام الہی ہے اور جو یہ کلام الہی نہیں ہے تو میری بیوی پر طلاق ہے تو شرعا اس کی بیوی پر طلاق وارد نہیں ہوسکتا۔اور جو حدیث کی نسبت قسم کھالے اور کہے کہ لفظ لفظ حرف حرف حدیث کا وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے۔اگر نہیں ہے تو میری جو رو پر طلاق ہے تو بے شک وشبہ اس کی بیوی پر طلاق پڑ جاوے گا۔یہ حضرت اقدس کی زبانی تقریر کا خلاصہ ہے۔( تذکرۃ المہدی صفحہ 161) طلاق اور حلالہ ایک صاحب نے سوال کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلاق لکھ دیتے ہیں ان کی وہ طلاق جائز ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا: قرآن شریف کے فرمودہ کی رو سے تین طلاق دی گئی ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے درمیان اتنا ہی وقفہ رکھا گیا جو قرآن شریف نے بتایا ہے تو ان تینوں کی عدت کے گذرنے کے بعد اس خاوند کا کوئی تعلق اس بیوی سے نہیں رہتا ہاں اگر کوئی اور شخص اس عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرے اور پھر اتفاقاً وہ اس کو طلاق دیدے تو اس خاوند اوّل کو جائز ہے کہ اس بیوی سے نکاح کرلے مگر اگر دوسرا خاوند ، خاوند اول کی خاطر سے یا لحاظ سے اس بیوی کو طلاق دے تا وہ پہلا خاوند اس سے نکاح کر لے تو یہ حلالہ ہوتا ہے اور یہ حرام ہے۔لیکن اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گذرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ یہ طلاق ناجائز طلاق تھا اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے موافق نہ دیا گیا تھا۔