فقہ المسیح — Page 286
فقه المسيح 286 طلاق جانے سے قابل فسخ ہو جاتے ہیں ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہو جاتا ہے صرف یہ فرق ہے کہ اگر مرد کی طرف سے شرائط ٹوٹ جائیں تو عورت خود بخود نکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود بخود نکاح کرنے کی مجاز نہیں بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے نکاح کو توڑا اسکتی ہے جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کراسکتی ہے اور یہ کی اختیار اس کی فطرتی شتاب کاری اور نقصان عقل کی وجہ سے ہے۔( آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 37 ) طلاق کا موجب صرف زنا نہیں انجیل کہتی ہے کہ اپنی بیوی کو بجز زنا کے ہرگز طلاق نہ دے۔مگر قرآن شریف اس بات کی مصلحت دیکھتا ہے کہ طلاق صرف زنا سے مخصوص نہیں بلکہ اگر مرد اور عورت میں باہم دشمنی پیدا ہو جاوے اور موافقت نہ ر ہے یا مثلا اندیشہ جان ہو یا اگر چہ عورت زانیہ نہیں مگر زنا کے مقدمات اُس سے صادر ہوتے ہیں اور غیر مردوں کو ملتی ہے تو ان تمام صورتوں میں خاوند کی رائے پر حصر رکھا گیا ہے کہ اگر وہ مناسب دیکھے تو چھوڑ دے۔مگر پھر بھی تاکید ہے اور نہایت سخت تاکید ہے کہ طلاق دینے میں جلدی نہ کرے۔اب ظاہر ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم انسانی حاجات کے مطابق ہے اور اُن کے ترک کرنے سے کبھی نہ کبھی کوئی خرابی ضرور پیش آئے گی۔اسی وجہ سے بعض یورپ کی گورنمنٹوں کو جواز طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 414،413) طلاق کے بعد مہر عورت کا حق ہے اگر یہ کہو کہ مسلمان بے وجہ بھی عورتوں کو طلاق دے دیتے ہیں تو تمہیں معلوم ہے کہ ایشر نے مسلمانوں کو لغو کام کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المومنون (4) اور قرآن میں بے وجہ طلاق دینے والوں کو بہت ہی ڈرایا