فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 611

فقہ المسیح — Page 287

فقه المسيح 287 طلاق ہے۔ماسوا اس کے تم اس بات کو بھی تو ذرا سوچو کہ مسلمان اپنی حیثیت کے موافق بہت سا مال خرچ کر کے ایک عورت سے شادی کرتے ہیں اور ایک رقم کثیر عورت کے مہر کی ان کے ذمہ ہوتی ہے اور بعضوں کے مہر کئی ہزار اور بعض کے ایک لاکھ یا کئی لاکھ ہوتے ہیں اور یہ مہر عورت کا حق ہوتا ہے اور طلاق کے وقت بہر حال اس کا اختیار ہوتا ہے کہ وصول کرے اور نیز قرآن میں یہ حکم ہے کہ اگر عورت کو طلاق دی جائے تو جس قدر مال عورت کو طلاق سے پہلے دیا گیا ہے وہ عورت کا ہی رہے گا۔اور اگر عورت صاحب اولاد ہو تو بچوں کے تعہد کی مشکلات اس کے علاوہ ہیں اسی واسطے کوئی مسلمان جب تک اس کی جان پر ہی عورت کی وجہ سے کوئی و بال نہ پڑے تب تک طلاق کا نام نہیں لیتا۔(آریہ دھرم۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 40) طلاق کا قانون باعث رحمت ہے انجیل میں طلاق کے مسئلہ کی بابت صرف زنا کی شرط تھی اور دوسرے صدہا طرح کے اسباب جو مرد اور عورت میں جانی دشمنی پیدا کر دیتے ہیں ان کا کچھ ذکر نہ تھا۔اس لئے عیسائی قوم اس خامی کی برداشت نہ کر سکی اور آخر امریکہ میں ایک طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا۔سواب سوچو کہ اس قانون سے انجیل کدھر گئی۔اور اے عورتو! فکر نہ کرو جو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں۔اگر عورت مرد کے تعدد ازدواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم خلع کراسکتی ہے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 80، 81) طلاق کی ضرورت قدرتی طور پر ایسی آفات ہر یک قوم کے لئے ہمیشہ ممکن الظہو ر ہیں جن سے بچنا بجز طلاق کے متصور نہیں۔مثلاً اگر کوئی عورت زانیہ ہو تو کس طرح اس کے خاوند کی غیرت اس کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر دن رات زنا کاری کی حالت میں