فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 611

فقہ المسیح — Page 285

فقه المسيح 285 طلاق ہونے کی حالت میں عنان اختیار مرد کے ہاتھ میں ہی رکھی جائے۔تمام دنیا میں انسانی فطرت نے یہی پسند کیا ہے کہ ضرورتوں کے وقت میں مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور مرد کا عورت پر ایک حق زائد بھی ہے کہ مرد عورت کی زندگی کے تمام اقسام آسائش کا متکفل ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ (البقرة : (234) یعنی یہ بات مردوں کے ذمہ ہے کہ جو عورتوں کو کھانے کے لئے ضرورتیں ہوں یا پہننے کے لئے ضرورتیں ہوں وہ سب اُن کے لئے مہیا 60 کریں۔اس سے ظاہر ہے کہ مرد عورت کا مربی اور محسن اور ذمہ وار آسائش کا ٹھہرایا گیا ہے اور وہ عورت کے لئے بطور آقا اور خداوند نعمت کے ہے اسی طرح مرد کو بہ نسبت عورت کے فطرتی قومی زبر دست دیئے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے مرد عورت پر حکومت کرتا چلا آیا ہے اور مرد کی فطرت کو جس قدر باعتبار کمال قوتوں کے انعام عطا کیا گیا ہے وہ عورت کی قوتوں کو عطا نہیں کیا گیا اور قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ اگر مرد اپنی عورت کو مروت اور احسان کی رو سے ایک پہاڑ سونے کا بھی دے تو طلاق کی حالت میں واپس نہ لے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام میں عورتوں کی کس قدر عزت کی گئی ہے ایک طور سے تو مردوں کو عورتوں کا نوکر ٹھہرایا گیا ہے اور بہر حال مردوں کے لئے قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء: 20) یعنی تم اپنی عورتوں سے ایسے حسن سلوک سے معاشرت کرو کہ ہر ایک عظمند معلوم کر سکے کہ تم اپنی بیوی سے احسان اور مروت سے پیش آتے ہو۔چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 286 تا 288) عورت خود بخود نکاح توڑنے کی مجاز کیوں نہیں؟ مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضرور یہ میں سے ہے اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ