فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 611

فقہ المسیح — Page 258

فقه المسيح 258 نکاح لوگوں کی ابلہ فریبی اور غلطی ہے کہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔دیکھو تو رات میں کا ہنوں کے فرقے کے ساتھ مراعات ملحوظ رکھی گئی ہیں اور ہندوؤں کے برہمنوں کے لئے خاص رعائتیں ہیں۔پس یہ نادانی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی کسی تخصیص پر اعتراض کیا جاوے۔ان کا نبی ہونا ہی سب سے بڑی خصوصیت ہے جو اور لوگوں میں موجود نہیں۔عورتوں کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے فرمایا: ( الحکم 6 مارچ 1898 صفحہ 2) ہم اپنی جماعت کو کثرت ازدواج کی تاکید کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ کثرت ازدواج سے اولا د بڑھاؤ تا کہ اُمت زیادہ ہو نیز بعض اشخاص کے واسطے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بدکاری اور بدنظری سے بچنے کے واسطے ایک سے زیادہ شادی کریں یا کوئی اور شرعی ضرورت ہوتی ہے لیکن یا درکھنا چاہئے کہ کثرت ازدواج کی اجازت بطور علاج اور دوا کے ہے۔یہ اجازت عیش و عشرت کی غرض سے نہیں ہے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ انسان کے ہر امر کا مدار اُس کی نیت پر ہے۔اگر کسی کی نیت لذات کی نہیں بلکہ نیت یہ ہے کہ اس طرح خدام دین پیدا ہوں تو کوئی حرج نہیں۔محبت کو قطع نظر کر کے اور بالائے طاق رکھ کر کہ یہ اختیاری امر نہیں، باقی امور میں سب بیویوں کو برابر رکھنا چاہیے مثلاً پار چات، خرچ ، خوراک، مکان ، معاشرت حتی کہ مباشرت میں مساوات ہونی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص ان حقوق کو پورے طور پر ادا نہیں کر سکتا تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ کثرت ازدواج کرے بلکہ عورتوں کے حقوق ادا کرنا ایسا تاکیدی فرض ہے کہ اگر کوئی شخص ان کو ادا نہیں کر سکتا تو اس کے واسطے بہتر ہے کہ وہ مجرد ہی رہے۔ایسے لذات میں پڑنے کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے یہ بہتر ہے کہ انسان تلخ زندگی بسر کرے اور