فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 611

فقہ المسیح — Page 257

فقه المسيح 257 نکاح آتی کہ وہ مذہب ہی کیا ہے جو انسانی ضروریات کو ہی پورا نہیں کر سکتا۔اب ان مذکورہ حالتوں میں عیسویت کیا تدبیر بتاتی ہے؟ قرآن شریف کی عظمت ثابت ہوتی ہے کہ انسانی کوئی ایسی ضرورت نہیں جس کا پہلے سے ہی اس نے قانون نہ بنا دیا ہو۔اب تو انگلستان میں بھی ایسی مشکلات کی وجہ سے کثرت ازدواج اور طلاق شروع ہوتا جاتا ہے۔ابھی ایک لارڈ کی بابت لکھا تھا کہ اس نے دوسری بیوی کر لی آخر اسے سزا بھی ہوئی مگر وہ امریکہ میں جا رہا۔غور سے دیکھو کہ انسان کے واسطے ایسی ضرورتیں پیش آتی ہیں یا نہیں کہ یہ ایک سے زیادہ بیویاں کر لے جب ایسی ضرورتیں ہوں اور انکا علاج نہ ہو تو یہی نقص ہے جس کے پورا کرنے کو قرآن شریف جیسی اتم اکمل کتاب بھیجی ہے۔( الحکم 28 فروری 1903 صفحہ 15 ) بیویوں کے درمیان اعتدال ضروری ہے کثرت ازدواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دو دو، تین تین ، چار چار کر کے ہی آ رہے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت ہے۔اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جاوے یا آمدنی کم ہو اور یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز کرنا نہیں چاہیے۔ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرة : 191)۔۔۔۔غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر انسان بیویوں ہی کا بندہ ہو جائے ، تو بھی غلطی کرتا ہے۔ہر ایک شخص اللہ تعالی کی منشاء کو نہیں سمجھ سکتا۔اس کا یہ منشاء نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جاؤ ور وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبانیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تئیں بے جا کاروائیوں میں نہ ڈالو۔انبیاء علیہم السلام کے لئے کوئی نہ کوئی تخصیص اگر اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے، تو یہ کوتاہ اندیش