فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 611

فقہ المسیح — Page 259

فقه المسيح 259 نکاح معصیت میں پڑنے سے بچار ہے۔اگر انسان اپنے نفس کا میلان اور غلبہ شہوت کی طرف دیکھے کہ اس کی نظر بار بار خراب ہوتی ہے تو اس معصیت سے بچنے کے واسطے بھی جائز ہے کہ انسان دوسری شادی کر لے۔لیکن اس صورت میں پہلی بیوی کے حقوق کو ہرگز تلف نہ کرے بلکہ چاہیے کہ پہلی بیوی کی دلداری پہلے سے زیادہ کرے کیونکہ جوانی کا بہت سا حصہ انسان نے اس کے ساتھ گذارا ہوا ہوتا ہے۔اور ایک گہرا تعلق اس کے ساتھ قائم ہو چکا ہوا ہوتا ہے۔پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک ضروری ہے کہ اگر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری بیوی کے کرنے سے اُس کی پہلی بیوی کو سخت صدمہ ہوتا ہے اور حد درجہ کی اُس کی دل شکنی ہوتی ہے۔تو اگر وہ صبر کر سکے اور معصیت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور کسی شرعی ضرورت کا اس سے خون نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اگر انسان اپنی ضرورتوں کی قربانی اپنی سابقہ بیوی کی دلداری کے لئے کردے اور ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے مناسب ہے کہ اس صورت میں دوسری شادی نہ کرے۔قرآن شریف کا منشاء زیادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو تقویٰ پر قائم رکھے اور دوسرے اغراض مثل اولاد صالحہ کے حاصل کرنے اور خویش و اقارب کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہو۔اور انہی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کرلو۔لیکن اگر اُن میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔دل دکھانا بڑا گناہ ہے اورلڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں۔جب والدین اُن کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالے کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا اُمید میں اُن کے دلوں میں ہوتی ہیں۔ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 205 206)