فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 611

فقہ المسیح — Page 232

فقه المسيح 232 حج جو حجاج کو برداشت کرنی پڑیں سارا حال بیان کیا۔انہوں نے بیان کیا کہ انگلش حدود سے نکل کر ٹرکش حدود میں داخل ہوتے ہی ایسی مشکلات کا سامنا ہوا کہ جن کی وجہ سے یقیناً کہا جاسکتا ہے کہ یہ مشکلات ایسی ہیں جن سے حج کے بالکل بند ہو جانے کا اندیشہ ہے خصوصاً اہل ہند کے واسطے۔انہوں نے بیان کیا کہ ترکی حدود میں کورنٹائن کی نا قابل برداشت سختیاں وہاں کے ڈاکٹروں اور حاکموں کا سخت درجہ کا حریص اور طامع ہونا اور اپنے فائدے کے لئے ہزاروں جانوں کی ذرہ بھر پرواہ نہ کرنا لوگوں کا سامان خوراک پوشاک وغیرہ بھپارہ میں ضائع کر دینا یا نقدی کا ضائع جانا اور پھر جو چیز ایک مصری حاجی دس روپے میں حاصل کر سکتا ہے وہ ہندیوں کو میں روپے تک بھی بمشکل دینا۔راستوں میں باوجود یکہ سلطان المعظم نے ہر دو میل پر کنواں تیار کروا رکھا ہے عمال اور کارکنوں کا بغیر دو چار آنے کے لئے پانی کا گلاس تک نہ دینا اور پھر راستہ میں باوجود چوکی پہروں کے انتظام کے جو کہ سلطان المعظم کی طرف سے کیا گیا ہے پرلے درجہ کی بدامنی کا ہونا یہانتک کہ انسان اگر راستے سے دو چار گز بھی ادھر ادھر ہو جاوے تو پھر وہ زندہ نہیں بچ سکتا اور پھر ہندیوں سے خصوصاً سخت برتاؤ ہونا ، بات بات پر پٹ جانا اور کوئی داد فریاد نہیں۔بات بات پر کذاب، بطال اور الفاظ حقارت سے مخاطب کیا جانا وغیرہ وغیرہ ایسے سامان ہیں کہ بہت ہی مصیبت کا سا منا نظر آتا ہے۔یہ سارا ماجرا سن کر حضرت اقدس نے فرمایا: ہم آپ کو ایک نصیحت کرتے ہیں۔ایسا ہو کہ ان تمام امور تکالیف سے آپ کی قوت ایمانی میں کسی قسم کا فرق اور تزلزل نہ آوے۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتلاء ہے۔اس سے پاک عقائد پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ان باتوں سے اس متبرک مقام کی عظمت دلوں میں کم نہ ہونی چاہیے کیونکہ اس سے بدتر ایک زمانہ گذرا ہے کہ یہی مقدس مقام نجس مشرکوں کے قبضہ میں تھا اور انہوں نے اسے بت خانہ بنا رکھا تھا۔بلکہ یہ تمام مشکلات اور مصائب خوش آئندہ زمانے