فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 611

فقہ المسیح — Page 231

فقه المسيح 231 حج فتنہ ہواُس جگہ جانے سے پر ہیز کرو۔سو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کیسا اعتراض ہے۔ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ فتنہ کے دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حج نہیں کیا اور حدیث اور قرآن سے ثابت ہے کہ فتنہ کے مقامات میں جانے سے پر ہیز کرو۔یہ کس قسم کی شرارت ہے کہ مکہ والوں میں ہمارا کفر مشہور کرنا اور پھر بار بار حج کے بارے میں اعتراض کرنا۔نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُوْرِهِمْ۔ذرہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے حج کی ان لوگوں کو کیوں فکر پڑگئی۔کیا اس میں بجز اس بات کے کوئی اور بھید بھی ہے کہ میری نسبت ان کے دل میں یہ منصوبہ ہے کہ یہ مکہ کو جائیں اور پھر چند اشرار الناس پیچھے سے مکہ میں پہنچ جائیں اور شور قیامت ڈال دیں کہ یہ کافر ہے اسے قتل کرنا چاہیے۔سو بر وقت ورود حکم الہی ان احتیاطوں کی پروا نہیں کی جائے گی مگر قبل اس کے شریعت کی پابندی لازم ہے اور مواضع فتن سے اپنے تئیں بچانا سنت انبیاء علیہم السلام ہے۔مکہ میں عنانِ حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ان مکفرین کے ہم مذہب ہیں۔جب یہ لوگ ہمیں واجب القتل ٹھہراتے ہیں تو کیا وہ لوگ ایڈا سے کچھ فرق کریں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة : 196) پس ہم گناہ گارہوں گے اگر دیدہ و دانستہ تہلکہ کی طرف قدم اٹھائیں گے اور حج کو جائیں گے اور خدا کے حکم کے برخلاف قدم اٹھانا معصیت ہے حج کرنا مشروط بشرائط ہے مگر فتنہ اور تہلکہ سے بچنے کے لئے قطعی حکم ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں۔اب خودسوچ لو کہ کیا ہم قرآن کے قطعی حکم کی پیروی کریں یا اس حکم کی جس کی شرط موجود ہے۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 416،415) حج کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات سے نہ گھبراؤ اخبار الحکم کے ایڈیٹر صاحب تحریر کرتے ہیں کہ شیخ فضل کریم صاحب جنہوں نے اسی سال حج کعبتہ اللہ کا شرف حاصل کیا ہے چند روز سے دارالامان میں تشریف رکھتے ہیں۔قبل ظہر حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے اس سال کے نا قابل برداشت تکالیف کا