فقہ المسیح — Page 233
فقه المسيح 233 حج اور زندگی کے درجات ہیں۔دیکھو آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے بھی زمانہ کی حالت کتنی خطرناک ہو گئی تھی اور کفر و شرک اور فساد اور نا پا کی حد سے بڑھ گئے تھے تو اس ظلمت کے بعد بھی ایک نور دنیا میں ظاہر ہوا تھا۔اسی طرح اب بھی امید کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی ان مشکلات کے بعد کوئی بہتری کے سامان بھی پیدا کر دے گا اور خدا تعالیٰ کوئی سامان اصلاح پیدا کر دیگا بلکہ اسی متبرک اور مقدس مقام پر ایک اور بھی ایسا ہی خطرناک اور نازک وقت گذر چکا تھا جس کی طرف آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی تھی۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ (الفیل : 2) غرض یہ اب تیسرا اواقعہ ہے۔اس کی طرف بھی اللہ تعالیٰ ضرور توجہ کرے گا اور خدا کا توجہ کرنا تو پھر قہری رنگ میں ہی ہوگا۔(الحکم 22 راپریل 1908 ، صفحہ 1 ) سیح موعود کی زیارت کو حج پر ترجیح دینا حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے متعلق فرمایا : چونکہ وہ میری نسبت شناخت کر چکے تھے کہ یہی شخص مسیح موعود ہے۔اس لئے میری صحبت میں رہنا اُن کو مقدم معلوم ہوا اور بموجب نص أطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (النساء : 60) حج کا ارادہ انہوں نے کسی دوسرے سال پر ڈال دیا اور ہر ایک دل اس بات کو محسوس کر سکتا ہے کہ ایک حج کے ارادہ کرنے والے کے لئے اگر یہ بات پیش آ جائے کہ وہ اس مسیح موعود کو دیکھ لے جس کا تیرہ سو برس سے اہل اسلام میں انتظار ہے تو بموجب نص صریح قرآن اور احادیث کے وہ بغیر اس کی اجازت کے حج کو نہیں جا سکتا۔ہاں باجازت اس کے کسی دوسرے وقت میں جاسکتا ہے۔(تذکرة الشهادتين روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 49) مامور من اللہ کی صحبت کا ثواب نفلی حج سے زیادہ ہے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے بعض استفسارات کے جواب میں حضور نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا: