فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 611

فقہ المسیح — Page 230

فقه المسيح 230 حج ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے۔لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے ؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماءاول ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر تو بہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تا کہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو۔ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔( بدر 8 راگست 1907 ءصفحہ 8) مخالفین کے اس اعتراض پر کہ آپ نے باوجود مقدرت کے حج نہیں کیا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا اس اعتراض سے آپ کی شریعت دانی معلوم ہوگئی۔گویا آپ کے نزدیک مانع حج صرف ایک ہی امر ہے کہ زاد راہ نہ ہو۔آپ کو بوجہ اس کے کہ دنیا کی کشمکش میں عمر کو ضائع کیا اس قدر سہل اور آسان مسئلہ بھی جو قرآن اور احادیث اور فقہ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے معلوم نہ ہوا کہ حج کا مانع صرف زاد راہ نہیں اور بہت سے امور ہیں جو عند اللہ حج نہ کرنے کے لئے عد صحیح ہیں۔چنانچہ ان میں سے صحت کی حالت میں کچھ نقصان ہونا ہے اور نیز ان میں سے وہ صورت ہے کہ جب راہ میں یا خود مکہ میں امن کی صورت نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (ال عمران : 98) عجیب حالت ہے کہ ایک طرف بداندیش علما ء مکہ سے فتوی لاتے ہیں کہ یہ شخص کافر ہے اور پھر کہتے ہیں کہ حج کے لئے جاؤ اور خود جانتے ہیں کہ جب کہ مکہ والوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا تو اب مکہ فتنہ سے خالی نہیں اور خدا فرماتا ہے کہ جہاں