فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 611

فقہ المسیح — Page 229

فقه المسيح 229 حج میں امن ہو، پیچھے جو متعلقین ہیں اُن کے گزارہ کا بھی معقول انتظام ہو اور اس قسم کی ضروری شرائط پوری ہوں تو حج کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے حج نہ کرنے کی وجوہات (الحکم 31 جولائی 1902 ، صفحہ 6) مخالفوں کے اس اعتراض پر کہ حضرت مرزا صاحب کیوں حج نہیں کرتے۔فرمایا: کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو خدمت خدا تعالیٰ نے اول رکھی ہے اس کو پس انداز کر کے دوسرا کام شروع کر دیوے۔یہ یا درکھنا چاہیے کہ عام لوگوں کی خدمات کی طرح ملہمین کی عادت کام کرنے کی نہیں ہوتی وہ خدا کی ہدایت اور رہنمائی سے ہر ایک امر کو بجالاتے ہیں اگر چہ شرعی تمام احکام پر عمل کرتے ہیں مگر ہر ایک حکم کی تقدیم و تاخیر ، الہی ارادہ سے کرتے ہیں۔اب اگر ہم حج کو چلے جاویں تو گویا اس خدا کے حکم کی مخالفت کر نیوالے ٹھہریں گے اور مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (ال عمران : 98) کے بارے میں کتاب بج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو حج ساقط ہے حالانکہ اب جولوگ جاتے ہیں ان کی کئی نمازیں فوت ہوتی ہیں۔مامورین کا اول فرض تبلیغ ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ میں رہے آپ نے کتنی دفعہ حج کئے تھے ؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا۔البدر 8 مئی 1903 صفحہ 122) ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب حج کو کیوں نہیں جاتے؟ فرمایا: یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مدینہ میں رہے۔صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔جب وحشی طبع علماء اس جگہ