فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 611

فقہ المسیح — Page 222

فقه المسيح 222 زكوة کے لئے نہ دیا جائے اس میں زکوۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔اسی پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنے موجودہ زیور کی زکوۃ دیتے ہیں اور جو زیور روپیہ کی طرح جمع رکھا جائے اس کی زکوۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔“ الحکم 17 نومبر 1905 صفحہ 11) قرض پر زکوۃ سوال پیش ہوا کہ جور و پیہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس پر اس کو ز کوۃ دینی لازم ہے؟ فرمایا: دو نہیں۔“ معلق مال پر زکوۃ واجب نہیں ( بدر 21 فروری 1907 صفحہ 5) ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا: جو مال معلق ہے اس پر زکوۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے لیکن تاجر کو چاہیے کہ حیلے بہانے سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر ر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوۃ دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔بعض لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ہے۔( بدر 11 جولائی 1907 ، صفحہ 5) سید کے لئے زکوة ؟ اس سوال کے جواب میں کہ کیا سید کے لئے زکوۃ جائز ہے فرمایا: اصل میں منع ہے اگر اضطراری حالت ہو فاقہ پر فاقہ ہوتو ایسی مجبوری کی حالت میں